جیل جانا کسی عزت دار شخص کے لئے پوری زندگی کا داغ ہوتا ہے لیکن سیاسی زندگی میں جیل جانا ایک طرح کا ٹرینڈ ہے یہاں تک کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو جیل نہیں گیا وہ اصلی سیاستدان نہیں بنا۔ اس آرٹیکل میں آپ کو بتایا جائے گا کہ پاکستان کے نامور سیاست دانوں کو جیل میں کیا کیا سہولتیں ملی ہیں۔
جیل میں کلاس سسٹم کیوں ہوتا ہے؟
پاکستان میں 1978 کے قانون کے مطابق قیدیوں کو تین کلاسز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جس میں پہلی کلاس کو اے اور بی کا درجہ دیا جاتا ہے جبکہ عام لوگوں کو سی کلاس کا درجہ دیا جاتا ہے۔ کلاس کا تعین جرم، تعلیم اور معاشرے میں فرد کے کردار کو مدِنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ سیاسی افراد کو زیادہ سہولیات اس لئے دی جاتی ہیں کیونکہ ان کے کیے گئے جرائم کی نوعیت ذاتی سے ذیادہ عام لوگوں کے مفاد سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔
نواز شریف
نواز شریف اپنے سیاسی کیرئیر کے دوران کئی بار جیل جاچکے ہیں۔ 2018 میں کوٹھ لکھپت جیل میں نواز شریف کو جیل میں بہت سی سہولیات ملیں جن میں کتابیں، اخبارات، اکیس انچ کا ٹی وی ایک ٹیبل اور کرسی کے علاوہ ٹیبل لیمپ اور ذاتی گدا، کپڑے اور کھانا شامل ہیں۔ نواز شریف کو علیحدہ باتھ روم کی سہولت بھی دی گئی تھی۔
آصف علی زرداری
سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے سیاسی کیرئیر کا بڑا حصہ جیل میں گزارا ہے۔ زرداری کو جیل میں ملنے والی سہولتوں میں ہفتے میں ایک بار اپنے خاندان، ڈاکٹر اور وکیل سے ملنے کی اجازت کے علاوہ اپنئ ذاتی خرچے پر ائیر کنڈیشنر ،فریج اور ایک نوکر رکھنے کی اجازت بھی تھی
خواجہ آصف
خواجہ آصف ن لیگ سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق وزیرِ خارجہ بھی رہ چکے ہیں۔ خواجہ آصف کو بی کلاس قیدیوں والی تمام سہولتوں کے علاوہ گھر کا پکا کھانا اور ان کے ذاتی معالج سے چیک اپ بھی شامل تھا۔
کیپٹن صفدر
کیپٹن صفدر ن لیگ سے تعلق رکھتے ہیں اور نواز شریف کے داماد ہیں۔ کیپٹن صفدر کو جیل میں خاص قسم کی سہولیات میسر تھیں جن میں اے سی والا کمرہ، فریج اور ٹی وی بھی شامل تھا۔
مریم نواز
مریم نواز کو اڈیالہ جیل میں خصوصی مراعات حاصل تھیں۔ بی کلاس قیدیوں کو ملنے والی تمام سہولتوں کے ساتھ ساتھ مریم کو اپنی مرضی کا بیڈ اور دیگر ضروریات منتخب کرنے کی بھی اجازت تھی۔ اس کے علاوہ ان کے کمرے میں بھی اخبار، ٹینل اور کرسی کے علاوہ ٹی وی موجود تھا۔