ویسے تو مارننگ شوز میں شاید ہی آج تک کوئی ڈھنگ کی بات کی گئی ہو۔ لیکن دن بدن ان شوز میں ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جسے دیکھ کر انسان خود شرمندہ ہوجاتا ہے۔ ابھی حال ہی میں اے پلس سے نشر ہونے والے جگن کاظم کے مارننگ شو میں تو حد ہی ہوگئی۔
ریٹنگ بڑھانے کے لئے بیہودہ ٹاسک
محترمہ نے شو میں آئے مہمانوں کو ایک عجیب و غریب ٹاسک دیا جس میں ایک جوڑے کو بغیر ہاتھ استعمال کیے صرف منہ سے سیب کھانا تھا۔ مذید افسوس کی بات یہ ہے کہ مہمانوں نے یہ ٹاسک پورا بھی کیا جسے دیکھ کر گھروں میں ٹی وی دیکھتے ہوئے لوگ شرم سے پانی پانی ہوگئے۔ اس موقع پر جگن کاظم ہنستی اور ٹھٹھے لگاتی نظر آئیں۔
سوشل میڈیا پر عوام کا غصہ
شاید یہ بیہودگی ٹی وی چینل والوں کو اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے اچھی لگتی ہو لیکن پاکستان الحمداللہ ایک اسلامی ملک ہے جہاں کے شہری آج بھی اسلامی طرزِ زندگی اپنا کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ اس طرح کی واہیات نشریات ان کے بچے بھی دیکھیں۔ جگن کاظم کے اس شو کے بعد سوشل میڈیا پر غم و غصے کا طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔
رمضان میں یہ نیک ہوجائیں گی
ایک صارف نے غصے میں طنز کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ صرف رمضان کے مہینے کا انتظار کریں کیونکہ اس مہینے میں یہ نیک ہوجاتی ہیں جو کہ ایک حقیقت بھی ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ چینلز اور میزبان رمضان میں تو سر ڈھانپ کر اسلامی قوانین کو اپناتے ہیں لیکن باقی پورا سال سستی ریٹنگ حاصل کرنے کے لئے اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں کرتے ہیں۔
مارننگ شوز میں کوئی حد تو ہونی چاہئیے
حکومت کو چاہئیے کہ جہاں وہ جھوٹی اور انتشار پھیلانے والی خبروں کے خلاف قوانین بنانے کی تیاری کررہی ہے وہیں مارننگ شوز میں بیہودگی کی روک تھام کرنے کے لئے بھی موثر انتظام کرے۔