میں غریب ہوں اکثر دن کا کھانا بھی نہیں ملتا۔۔۔ 174دفعہ خون عطیہ کرنے والا یہ شخص کون ہے؟ جانیے خون عطیہ کرنے والے بوڑھے شخص کے بارے میں چند باتیں

image

“میرا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ اتنا خون عطیہ کرتے ہیں تو کیا کھانا کھاتے ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ میں اتنا غریب ہوں کہ اکثر دن کا کھانا بھی نہیں ملتا“

یہ الفاظ ایک ایسے غریب بوڑھے شخص کے ہیں جو اکتالیس سالوں سے مسلسل خون عطیہ کررہے ہیں۔ سری نگر کے رہائشی شبیر حسین نے انڈیپینڈینٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی زندگی کا مقصد ہی انسانیت کی خدمت اور لوگوں کو خون عطیہ کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ پچھلے اکتالیس سالوں میں شبیر حسین174 بار اپنا خون عطیہ کرچکے ہیں۔

شبیر اتنے غریب ہیں کہ وہ پیدل ہی سفر کرتے ہیں اس کے علاوہ ان کے پاس اپنی خوراک پر توجہ دینے کے لئ پیسے نہیں ہوتے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ خون عطیہ کرنے والوں کو کھجور کھانا لازمی ہوتا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ شبیر حسین کی انسانیت کی اس قدر خدمت کے باوجود انھیں حکومتی سطح پر کبھی نہیں سراہا گیا نہ ہی انھیں کوئی ایوارڈ دیا گیا ہے۔ شبیر حسین صرف خون ہی عطیہ نہیں کرتے بلکہ ہر طرح کے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے کبھی ایوارڈ کی خواہش نہیں کی، اللہ کرے کہ میں جو کچھ کروں اس پر مجھے عزت ملے، میں انسانیت کی مدد ہمیشہ کرتا رہوں گا۔‘

خون عطیہ کرنے کے فائدے

دنیا بھر میں ہر لمحے کسی نہ کسی شخص کو خون کی ضرورت پڑتی ہے۔ خون کو مصنوعی طریقے سے بنایا نہیں جاسکتا اس لئے صحت مند لوگوں کا خون عطیہ کرنا باقی لوگوں کی جان بچانے کے لئے ضروری ہے۔ البتہ یہ نیک فریضہ انجام دینے کے لئے معالج سے مکمل معائنہ اور خوراک پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ آپ کی صحت کو مسائل نہ ہوں۔ خون دینے کے بہت سے فائدے بھی ہیں جو قارئین کی رہنمائی کے لئے پیش کیے جارہے ہیں۔

صحت کا مشاہدہ

خون عطیہ کرنے سے پہلے ڈاکٹر بلڈ پریشر، نبض درجہ حرارت اور بہت سے دوسرے ٹیسٹ مفت کرتے ہیں جس سے آپ کے جسم کی نگہداشت ہوتی رہتی ہے۔

دل کے دورے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے

امریکی تحقیق کے مطابق سال میں کم سے کم ایک بار خون عطیہ کرنے سے دل کے دورے کا خطرہ ٨٨ فیصد تک کم ہوسکتا ہے کیونکہ خون یں زیادہ آئرن کی مقدار شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ پیدا کرتی ہے جبکہ خون عطیہ کرنے سے آئرن کی زائد مقدار کم ہوجاتی ہے۔

کینسر کا خطرہ ٹل جاتا ہے

نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے جرنل میں شائع ہوئی تحقیق کے مطابق خون سے زائد آئرن کے اخراج سے کینسر کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے۔ ایسے افراد جو باقاعدگی سے خون دیتے ہیں ان میں کینسر ہونے کے امکانات عام لوگوں کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھے۔

جگر کے لئے فائدہ مند

خون میں آئرن کی بڑھی ہوئی مقدار سے جگر کو بھی نقصان ہوتا ہے۔ نیشنل سینٹر فار بائیوٹیکنالوجی انفارمیشن کی رپورٹ کے مطابق فیٹی ایسڈ کی بیماری وباء کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے جسے خون عطیہ کرکے کم کیا جاسکتا ہے۔

ڈپریشن میں کمی

خون دینے کا ایک فائدہ ڈپریشن میں کمی ہے۔ کسی کے لئے اچھا سوچ کر ہی انسان کو ذہنی سکون ملتا ہے اور یہ سکون اس وقت کئی گنا بڑھ جاتا ہے جب انسان کسی کےلئے عملی طور پر کچھ کرتا ہے اور خون دینے سے بڑھ کر شاید ہی کوئی بڑا کام ہوسکتا ہو۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US