میری بہن ابھی اتنی چھوٹی ہے کہ ٹھیک سے بول بھی نہیں سکتی۔ ابھی اسکے اسکول جانے کے دن ہیں لیکن طالبان کا کہنا ہے کہ اس کی شادی ہوجانی چاہیے
یہ الفاظ ایک ایسے افغان لڑکے کے ہیں جو اسکالر شپ پر اعلیٰ تعلیم کے لئے برطانیہ جاچکا ہے۔ اسکالر شپ حاصل کرنے والے افغان طلباء کو ان کے علاوہ اپنے خاندان کو بھی برطانیہ لانے کی اجازت دی گئی تھی مگر بد قسمتی سے طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد وہ اپنی والدہ اور بہن کو ساتھ نہیں لا سکے۔ اپنی بہن کے حوالے سے بی بی سی کو پیغام دینے والے افغان طالب علم نے ادارے سے اپنی شناخت چھپانے کی درخواست بھی کی۔
طالبان کی دھمکیاں
اس لڑکے نے بتایا کہ ’وہ کہہ رہے ہیں کہ میری بہن کی شادی ایک پاگل طالب سے کر دی جائے گی۔ یہ سزائے موت نہیں لیکن عمر قید کے مانند ضرور ہے۔ مجھے واٹس ایپ کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ مجھے برطانوی فوج نے ملک سے نکالا ہے کیونکہ میں ان کا ایجنٹ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے لیکن میرے خاندان کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے"
اس سے پہلے کابل سے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک خاتون نے بی بی سی سے کہا کہ" جمعے کے خطبوں میں کہا جا رہا ہے کہ لڑکیوں کی مردوں سے شادی اچھا کام ہے ثواب کا کام ہے"
خاندان والے کہتے ہیں کہ طالبان نے شادی کے لئے ہاتھ مانگا تو ہم کیا کریں گے؟
افغانستان کی خواتین کا کہنا کہ طالبان کے واپس آجانے سے ان کی زندگیاں تبدیل ہوگئی ہیں خاندان کے مرد ان سے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے کہا تھا نا شادی کر لو۔ اب طالبان نے اگر یہاں آ کر ہمیں حکم دیا کہ کنواری لڑکیوں کا ہاتھ دو تو ہم کیا کریں گے"