کراچی میں نئے سال کی آمد پر جہاں شہریوں کی بڑی تعداد نے خوشیاں منائیں، وہیں ڈبل سواری اور ہوائی فائرنگ کے واقعات نے شہر کے امن و امان کو بری طرح متاثر کیا۔ نئے سال کی پہلی رات شہر کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد زخمی ہو گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں میں 18 مرد، 7 خواتین اور 2 کم عمر بچیاں شامل ہیں۔ صفورا کے قریب فائرنگ سے 8 سالہ فریحہ زخمی ہوئی جبکہ کورنگی میں 11 سالہ ماہ جبین کو گولی لگنے پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ محمود آباد نمبر 5 میں 18 سالہ وجیہہ، قیوم آباد ڈی ایریا میں 40 سالہ علینہ، گلزار ہجری اسکیم 33 میں 55 سالہ شمیم اور لائنز ایریا میں 53 سالہ معراج بانو بھی ہوائی فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہوئیں۔
اس کے علاوہ اعظم بستی، گلستانِ جوہر، چنیسر گوٹھ، گولیمار، نیو سبزی منڈی، پاک کالونی، لیاقت آباد، لی مارکیٹ، گلبرگ، لیاری، ماڑی پور، منظور کالونی، کشمیر روڈ، گارڈن سمیت دیگر علاقوں سے بھی فائرنگ کے باعث زخمی ہونے والوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
پولیس اور ریسکیو اداروں کے مطابق زیادہ تر افراد اس وقت گولیوں کا نشانہ بنے جب وہ گھروں کی چھتوں، سڑکوں یا باہر کھلے مقامات پر موجود تھے۔ کئی زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے، تاہم بعض افراد کو شدید زخموں کے باعث مزید طبی امداد کی ضرورت ہے۔
واقعات کے بعد پولیس نے ہوائی فائرنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے شہر کے مختلف اضلاع سے 56 ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن میں سے 5 ملزمان ڈسٹرکٹ سینٹرل سے حراست میں لیے گئے۔ سال 2026 کا پہلا مقدمہ قائد آباد تھانے میں سرکار کی مدعیت میں ہوائی فائرنگ کے الزام میں درج کیا گیا۔
دوسری جانب لانڈھی لالہ آباد کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار ہوا جسے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق زخمی ڈاکو کی شناخت 35 سالہ عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے۔
ادھر نئے سال کے موقع پر سرکاری سطح پر تقریبات بھی منعقد ہوئیں۔ گورنر سندھ کی جانب سے گورنر ہاؤس میں نئے سال کی آمد پر شاندار آتش بازی کا اہتمام کیا گیا جو تقریباً 47 منٹ تک جاری رہا۔ آتش بازی کے دوران آسمان رنگ و نور سے روشن ہو گیا اور گورنر ہاؤس میں موجود ہزاروں شہریوں نے خوشی کا بھرپور اظہار کیا۔