مدد کرنے والے اگر نیک نیتی سے مدد کرنا چاہیں تو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ مظلوم کا دین کیا ہے اور مذہب کیا ہے وہ بس مدد کرکے لوگوں کی خدمت کرنے میں پیش پیش رہنا چاہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو بنا کسی غرض کہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
مشہور شخصیات بھی ایسی ہیں جو مشکل وقت میں لوگوں کے لئے حآضر ہوتی ہیں اور دل و جان سے ان کے چہروں پر خوشیاں بانٹتی نظر اتی ہیں۔
٭ آغآ خآن ہسپتال کے سی ای او:
آغا خان ہسپتال پاکستان کے تمام تر نجی ہسپتالوں میں سب سے بڑا اور سروس کوالٹی کے لحاظ سے سب سے زیادہ مشہور ہسپتال ہے اور اس کے سی ای او ڈاکٹر شاہد شافی صاحب بہت زندہ دل اور انسانیت کے علمبردار ہیں جو اپنے طور پر ہر ممکنہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے مریضوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔ کچھ دن قبل انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی جس میں دیکھا جاکستا ہے کہ آغآ خان ہسپتال کے کچن کیفے میں جہاں کھانا بنانے والے بھی موجود تھے، لیکن سی ای او نے خود اپنے مریضوں کے لئے بہترین ناشتہ بنایا ٓ، نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے ساتھ رہنے والے اٹنڈنٹس اور ہسپتال انتظامیہ کے لئے بھی بنایا جس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ اپنے خانساماؤں کے لئے بھی سوچتے ہیں اور اپنی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ بحیثیتِ ڈاکٹر مریضوں کو اچھا کھانا پیش کرنے کے لئے یہ مثبت اقدام اٹھایا جو کسی تعریف کے قابل نہیں۔
٭ سلمان خان:
بھارتی اداکار سلمان خان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ہر کسی کی مدد کرنے کے لئے خود کو کبھی پیچھے نہیں کرتے بلکہ چاہے ملک میں رہنے والے تکلیف میں ہوں یا ملک بدر سلمان خان سب سے پہلے مدد کا ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں۔ بھارت میں کورونا کی بدترین صورتحال میں سلمان خآن نے روزانہ 16 ہزار لوگوں کو کھانا اپنی جیب سے کھلایا، سڑکوں پر رہنے والے بچوں کی امداد کی، ایک ہندو بچی کا پیدائشی طور پر جگر فیل تھا جس کے علاج کے لئے سلمان خان نے فوری 30 کروڑ روپے کی امداد دے کر بچی کی جان بچائی، سپیشل بچوں کی مدد کے لئے یہ ہر ماہ بھارتی 10 لاکھ روپے اپنی جیب سے سپیشل چائلڈ اداروں کو دیتے ہیں۔
٭ فہاد مُصطفٰی:
انسانیت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، جو دوسروں کے دکھ درد میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں، وہی لوگوں کے دلوں اور خدا کی نظر میں سب سے زیادہ پسند کیئے جاتے ہیں چاہے وہ کوئی اداکار ہو یا کوئی عام انسان، کوئی امیر شخصیت ہو یا کوئی غریب، انسانیت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔
کچھ ایسی ہی مثال کچھ ماہ قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، ایک ہندو ڈاکٹر جو جانوروں کا علاج مفت میں کرتے ہیں، سب کی مدد کرتے ہیں، لیکن جب ان کے بیٹے پر مشکل وقت پڑا تو کوئی ان کی مدد کرنے کے تیار نہ تھا۔
نجی ٹی کے پروگرام شانِ رمضان میں مشہور ظفر عباس جوکہ ایک مشہور فلاحی ورکر ہیں اور رو ہمیشہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ ان کے توسط سے جانوروں کا فری علاج کرنے والے ڈاکٹر آئے جن کے بیٹے کو تھیلیسیمیا ہے اور اس کے پاس صرف 15 ماہ ہیں زندگی جیے کے، اس کے بعد اگر اس کی سرجری ہوئی تو جینے کی امید کم سے کم ہے۔
بچے کے والد نے بتایا کہ: '' میرے پاس کوئی جانور لے کر آتا ہے تو کہتا ہے گھر میں کھانا کھانے کے لئے نہیں ہے، جانور بھی بیمار ہے، میں اپنی طرف سے جانوروں کا فری میں علاج کر دیتا ہوں، میرے بچے کے لئے 40 لاکھ روہے کی رقم درکار ہے، میں غریب ہوں، میں کہاں سے لاؤں گا، جب میں لوگوں کے پاس مدد کے لئے جاتا ہوں تو وہ کہتے ہیں آپ ہندو ہو، ہم مدد نہیں کر سکتے۔'' ''
اس بات پر تبصرہ چل رہا تھا کہ اچانک اداکار فہاد مصطفیٰ کی کال آئی اور انہوں نے ہندو بچے دپیش کے علاج کے لئے فوری ذاتی جیب سے 20 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کر دیا اور بعد میں مزید بھی مدد کرنے کے لئے کہا۔
صرف یہی نہیں بعد ازاں اداکار فہاد مصطفیٰ نے جے ڈی سی میں بھی 20 لاکھ روپے امداد کی تاکہ ضرورت مندوں کی مدد کی جاسکے، ان کا علاج کیا جاسکے۔
