گھر میں آگ لگنے کی وجہ سے چیزوں کو بچاتے ہیں، لوگوں کو نہیں ۔۔ جانیے نارتھ کوریا کی ان عجیب و غریب پابندیوں کے بارے میں، جو آپ کو بھی حیران کر دے گی

image

آزادی ایک ایسی نعمت ہے جو کہ انہیں بخوبی سمجھ آ سکتی ہے جو کہ اس غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو نارتھ کوریا کے بارے میں کچھ ایسی معلومات بتائیں گے جو ہو سکتا ہے آپ نے بھی پہلے نہیں سنی ہوں۔

نارتھ کوریا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو کہ سخت قوانین، دنیا کی رنگینیوں کے خلاف، آمرانہ دور میں جکڑے ہوئے ہیں۔ بلیو جینز، میک اپ کا سامان یہ سب وہ چیزیں ہیں جو کہ ائیر پورٹ پر ہی سیاحوں سے واپس لے لی جاتی ہیں۔ کیونکہ بلیو جینز اور میک اپ پر نارتھ کوریا میں پابندی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مزہبی کتابیں ساتھ لے جانا بھی آپ کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے، کیونکہ ناتھ کوریا مذہبی کتابیں کے جانے پر پابندی ہے۔
نارتھ کوریا جانے والے سیاحوں کو آزادانہ طور پر گھومنے کی اجازت بالکل بھی نہیں ہے، سیاحوں کے لیے ایک ٹورسٹ گائیڈر ہوتا ہے جو کہ انہیں ہر چیز سے متعلق معلومات فراہم کر رہا ہوتا ہے۔ سیاح صرف انہی دکانوں اور سیاحتی مقامات کا رخ کر سکتے ہیں، جں کی حکومت نے اجازت دی ہے۔ اگر حکومتی قانون کی خلاف ورزی کی گئی تو انگلی صبح کا سورج آپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی دیکھیں گے، نارتھ کوریا میں اگر گھر میں آگ لگ جائے تو سب سے پہلے گھر کے رہائشی افراد پر لازم ہے کہ وہ کم جونگ ان اور آمروں کی تصاویر کو باحفاظت گھر سے باہر لے کر آئیں، اگرچہ کوئی انسان بھی اس گھر میں آگ کی تپش میں جل رہا ہو۔ لیکن سب سے پہلے ان آمروں کی تصویروں کو بچانا ضروری ہے، تصاویر کے جلنے کی صورت میں افراد کو جیل ہو جاتی ہے۔
بلا اجازت کوئی تصاویر نہیں کھینچ سکتے، غلط تصاویر بھی نہیں کھینچ سکتے، مقامی افراد سے بھی سیاح بات نہیں کر سکتے ہیں۔ سیاحوں سے بات چیت کے لیے اداکاروں کو ہائر کیا جاتا ہے۔
جبکہ آمروں کے مجسمے کی طرف انگلی سے اشارہ کرنا، یا مزاق اڑانا جرم ہے۔ جبکہ نارتھ کوریا سے نکلتے وقت آپ کا موبائل فون بھی چیک کیا جاتا ہے، آپ کی اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا نارتھ کوریا سے متعلق زیادہ واقف نہیں ہے کیونکہ نارتھ کوریا دنیا کو اپنی ثقافت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US