آپ میں سے کئی لوگوں نے ٹارزن کارٹون کو دیکھے ہی ہوں گے، جنگل میں رہنے والا نوجوان جو جنگلی حیات کے ساتھ گھل مل گیا تھا اور پھر انہی کی زبان سمجھتا تھا۔ مگر کیا ایسا حقیقت میں ممکن ہے؟
ہماری ویب کی اس خبر میں بھی کچھ ایسی ہی معلومات موجود ہے، جو ہو سکتا ہے آپ کے لیے بھی حیرت کا باعث بنے۔
ویتنام کے جنگلات سے ایک ایسا شخص پایا گیا ہے جو کہ پچھلے 4 سالوں سے جنگل ہی میں رہ رہا تھا۔ آج کے دور میں ایسے افراد کا خیال بھی ممکن نہیں ہے کہ ایک شخص جنگل میں ٹارزن کے طور پر زندگی گزار سکے، جسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ آسمان پر کہا اڑتے ہیں، پانی پر بحری جہاز چلتے ہیں کیونکہ وہ گھنے جنگل میں حیاتیاتی زندگی گزار رہا تھا۔
جنگل میں زندگی گزارنے والے اس شخص کا ہو وان لینگ ہے، جبکہ ہو وان کی والدہ کا اس وقت انتقال ہو گیا تھا جب وہ دو سال کے تھے۔ والدہ کے انتقال کے بعد والد اور بھائی نے ہی ہو وان کی تربیت کی تھی۔
چونکہ اس زمانے میں امریکہ اور ویتنام کی جنگ چھڑی کوئی تھی، یہی وجہ ہے کہ ہو وان کے والد نے بیٹے کو جنگل میں لے گئے، جہاں وہ 41 سال سے رہ رہے تھے۔ کیونکہ امریکہ ویتنام پر بم بر سا رہا تھا۔
والدہ اور دو بھائی بھی امریکی بمباری میں ہی ہلاک ہو گئے تھے۔
ہو وان جنگل میں ہی اپنا گھر بنا چکے تھے۔ وہ پیڑوں اور پتوں کی مدد سے رہنے کے لیے ایک جگہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے، جبکہ پیڑ پودوں کے پتوں سے کپڑے بنا لیے۔ کھانا بھی جنگلی حیات تھی اور پینے کے لیے پانی موجود تھا۔
یہ جان کر آپ کو حیرانگی ہو گی کہ ہو وان سانپ، بندر، چھپکلی، چمگادڑ کھاتا تھا لیکن سب سے زیادہ چوہے کا سر انہیں پسند تھا، جسے وہ چسکے لے کر کھاتے تھے۔
وان کو عورتوں کے بارے میں بھی کچھ پتہ نہیں تھا۔ انہیں علم ہی نہیں تھا کہ عورت بھی اسی دنیا میں پائی جاتی ہے۔ جبکہ وہ وقت سے بھی ناواقف تھے۔ انہیں صرف دن اور رات کا ہی پتہ تھا۔