دنیا بھر میں مسلمانوں پر بے انتہا ظلم و ستم ہو رہے ہیں، چاہے بھارت ہو یا میانمار، یورپ ہو یا پھر امریکہ، ہر ایک ملک میں مسلمان کو اذیت پہنچائی جا رہی ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو چین سے متعلق بتائیں گے جہاں اسلام سے متعلق اویغور کے مسلمانوں کو خاص طور پر کیمپوں میں رکھا جا رہا ہے۔
چین میں اویغور کے مسلمانوں کے حوالے سے بی بی سی، امریکی، اور بھارتی میڈیا سمیت عالمی میڈیا رپورٹ کر چکا ہے۔ میڈیا بتاتا ہے کہ چین میں اویغور کے مسلمانوں کو اسلام چھوڑنے پر زور دیا جا رہا ہے، انہیں ایسے کیمپوں میں رکھا جا رہا ہے جہاں وہ ایک ایسی زندگی گزار رہے ہیں، جو انہیں رات کو سونے نہیں دیتی ہے، انہیں خوابوں میں بھی یہی صورتحال کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ اٹھ جاتے ہیں۔
ایرباکت اوتاربے قازل نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ ایرباکت وہ شہری ہیں جو کہ چین کے کنسنٹریشن کیمپ میں رہ چکے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ مجھے مکے مارے جاتے تھے، اس وقت مکے مارے جاتے تھے جب تک میں بے ہوش نہ ہو جاؤں۔
ایرباکت کو صرف مکے ہی نہیں مارے جاتے تھے بلکہ دن کی روٹین ہوتی تھی جس میں انہیں مختلف طرح سے ٹارچر کیا جاتا تھا۔ اب بھی ان کیمپوں میں موجود افراد کو ایک خاص روٹین کے تحت برتاؤ کیا جاتا ہے۔
ایرباکت کا واٹس ایپ کا استعمال کرنے اور واٹس ایپ پر اسلام سے متعلق ویڈیو دیکھنے پر کیمپ میں رکھا گیا تھا۔ اسلام سے متعلق ویڈیو دیکھنے پر ایرباکت کو 98 دنوں کے لیے جیل میں رکھا گیا تھا، جہاں ان پر اس حد تک ظلم ہوتے تھے کہ موت کو فوقیت دیتے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی مجھ پر اس حد تک ظلم ہوتا تھا کہ میں سوچتا تھا کہ مجھے مار دیں۔ ایرباکت کے ہاتھوں پر ہتھکڑیوں اور پیروں میں بیڑیوں کے نشان موجود ہیں، بیڑیاں اور ہتھکڑیاں ایرباکت کو جیل میں بھی پہنائی جاتی تھیں، ان بیڑیوں کا وزن 7 کلو تھا۔ اویغر کے مسلمانوں کو کسی بھی قسم کا سکون میسر نہیں ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ وہ تشدد جیل میں میرے ساتھ ہوا وہ آج بھی میری آںکھوں کے سامنے مجھے نظر آتا ہے۔ خواب میں وہ منظر میرے سامنے آتا ہے تو میں ڈر کر نیند سے اٹھ جاتا ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اب بھی میں وہاں ہی موجود ہوں۔
ان کیمپوں میں دراصل مسلمانوں کی ذہن سازی اور ان کی دماغی صورتحال سے کھیلا جا رہا ہے۔ انہیں اس طرح بنایا جا رہا ہے کہ وہ ایک خوف میں مبتلا رہیں۔
ان جیلوں میں ایک ایسی بھی کرسی ہے جسے ٹائیگر چئیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ٹائیگر چئیر پر ایک شخص کو 7 دن تک بٹھایا جاتا ہے، جبکہ کئی بار دنوں کی تعداد بڑھا دی جاتی ہے۔ یہ چئیر ایسی ہے کہ انسان اس کرسی پر زیادہ گھنٹے بیٹھ نہیں پاتا اور وہ مزاحمت کرتا ہے جس پر جیل میں موجود اہلکار اس شخص پر مزید تشدد کرتے ہیں۔
جیل میں کالا ڈنڈا موجود ہے جس سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کرنٹ والے ڈنڈے بھی مسلمانوں کو ازیت پہنچانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
تربیتی مراکز کی صورتحال:
تربیتی مراکز میں روزانہ صبح ایک لائن میں لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں اور پھر کلاسوں میں انہیں لے جایا جاتا ہے، جہاں ٹیچر موجود ہوتا ہے۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ ٹیچر سلاخوں کی دیوار کی دوسری طرف موجود ہوتا ہے۔ چینی زبان کے وہ حروف بھی پڑھائے جاتے ہیں جو کہ ہم پہلی جماعت میں پڑھ کر آئے ہوتے ہیں۔
ان کیمپوں میں آپ چلا نہیں سکتے، تکلیف کی صورت میں آپ گنگنائیں، لیکن چیخ نہیں سکتے۔ اس حوالے سے جب ان مسلمانوں سے پوچھا گیا جو ان کیمپوں میں رہ کر آئے ہیں کہ چین کا مقصد کیا ہے، تو انہوں نے بتایا کہ اسلام، مسلمانوں اور ان کی زبان کا خاتمہ۔
ایرباکت بتاتے ہیں کہ میں نے والدہ کو کبھی اسکارف کے بغیر نہیں دیکھا تھا مگر جب وہ مجھ سے ملنے آئیں تو اسکارف کے بغیر تھیں۔ وہ ایسے مواقع تھے جب ان کے سر پر اسکارف نہیں تھا اور ان کے سفید بال دیکھ کر میں افسردہ ہو گیا تھا۔
ایرباکت کو ایک ایسی عمارت میں بھی بھیجا گیا تھا جہاں انہیں یونیفارم اور پاجامے سلائی کرنے ہوتے تھے۔