گوادر پاکستان کا وہ حصہ ہے جس پر بے شمار ممالک کی ںظریں ہیں۔ اس علاقے کی اہمیت کا اندازہ ماضی میں صرف پاکستان اور برطانیہ کو ہی ہوا تھا، تب ہی دونوں ممالک نے اس حوالے سے اومان سے رابطہ کیا تھا۔
اس حوالے بھارت نے بھی اومان سے رابطہ کیا تھا کیونکہ گوادر اس وقت اومان کا حصہ تھا۔ پاکستان نے اومان کے بادشاہ سے گوادر خریدنے کی پیشکش بھی کی گئی تھی اور خود اومان بھی اس علاقے سے آزاد ہونا چاہ رہا تھا۔
عمان کا خیال تھا کہ گوادر کا علاقہ ان کی ریاست کے لیے مشکل کھڑی کر رہا تھا، سمندر پار علاقے کی دیکھ بھال میں انہیں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ برطانیہ چونکہ اس وقت دوسری جنگ عظیم کے اثرات کو جھیل رہا تھا یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے معاشی تنگ دستی کو ختم کرنے کے لیے گوادر کو لینے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان اس لیے بھی گوادر کے حوالے سے سنجیدہ تھا کیونکہ اسمگلنگ کا ایک بڑا مرکز گوادر کی غیر ترقی یافتہ بندرگاہ تھی۔ جبکہ دفاعی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے مختلف جائزے لیے، یہ رپورٹ روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوئی تھی جس کے مطابق پاکستان بحیرہ عرب کی ساحلی پٹی سے لر کر گواٹا کے مقام تک ایک سڑک بنانا چاہتا ہے۔ اس سے ملک کا دفاع مضبوط بنایا جا سکتا تھا اور اسمگلنگ کی روک تھام میں بھی مدد مل سکتی تھی۔ لیکن ان تمام صورتحال میں گوادر ایک بڑی دیوار تھا جو کہ پاکستان کے لیے مشکل کھڑی کر رہا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے گوادر خریدنے کے لیے عمان سے رابطہ کیا، جبکہ بھارت نے بھی گوادر خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
لیکن صورتحال اس وقت بھارت کے لیے خوفناک ہوئی جب عمان کے بادشاہ نے پاکستان کو گوادر بطور تحفہ دیا، اس وقت تو پاکستانی بہت خوش ہوئے، لیکن عالمی جریدے کے انکشاف نے سب کو حیران کر دیا تھا جب کہ انکشاف ہوا کہ پاکستان نے گوادر خردینے کے لیے عمان کو 4 کروڑ 20 لاکھ روپے کی خطیر رقم ادا کی گئی تھی۔
اس وقت کے وزیر اعظم فیروز خان نون نے اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کر گوادر کے انضمام کا اعلان کیا تھا، مگر جریدے کے انکشاف کے بعد حکومت خاموش ہو گئی تھی، عوامی ردعمل بھی شدید تھا، کیونکہ حکومت نے غلط بیانی کی تھی اور مشروط طور پر گوادر کو خریدا گیا تھا۔ عمان کے بادشاہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس علاقے سے تیل نہیں نکالا جا سکتا ہے، اگر نکالا جائے گا تو اس کا کچھ حصہ عمان کو دیا جائے گا۔
آئین کی دفع 104 کے تحت گوادر کو مغربی پاکستان کا حصہ قرار دے دیا گیا تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ حکومتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ یہاں کے عوام کے حقوق دیگر پاکستانیوں کے برابر ہی ہوں گے۔
پاکستانی حکومت گوادر خریدنے پر اور غلط بیانی پر شدید تنقید کی زد میں تھی، مگر یہ صورتحال اس وقت تھم گئی جب اس وقت کے گورنر مغربی پاکستان نواب مظفر غزل نے بتایا کہ بھارت بھی گوادر کو خریدنے میں دلچسپی رکھتا تھا، اور اس حوالے سے وہ پاکستان سے دس گناہ زیادہ رقم دے رہا تھا۔
گوادر کو خریدنے کے لیے بھارت نے کئی ممالک سے رابطہ کیا مگر کامیاب نہیں ہو سکا، بھارت کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ گوادر میں اکثریت ہندوؤں کی ہے، اسی لیے گوادر پر پہلا حق ہمارا ہے۔ لیکن پاکستانی اعداد و شمار کے مطابق انضمام کے وقت گوادر کی آبادی صرف 20 ہزار تھی ، جس میں صرف ایک ہزار ہی ہندو تھے۔ آخری حربہ بھارت نے اپنایا کہ اس علاقے کے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے سے کرایا جائے، اور بھارتی افسران کو گوادر میں جانے کی اجازت دی جائے جو کہ پاکستان نے مسترد کر دی۔
گوادر کی اہمیت اور رہائشیوں کے حقوق:
گوادر ویسے تو سی پیک کی وجہ سے خبروں میں ہے لیکن گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر گوادر کے حوالے سے خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ گوادر کے رہنے والے بنیادی سہولیات کے لیے اور ناانصافیوں کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں، گزشتہ 20 دنوں سے شہری احتجاج اور دھرنا دے رہے ہیں۔
گوادر کے شہری مجموعی طور پر 19 مطالبات کو منوانے کے لیے احتجات کر رہے ہیں۔ گوادر کے شہری اس بات کو لے کر بھی تشویش میں مبتلا ہیں کہ ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کی جا رہی ہے جس سے مقامی افراد کے روزگار کو خطرہ ہے۔ ایک ایسا علاقہ جہاں سہولتوں کا فقدان ہو اور اب ان کے واحد روزگار کے ذریعے پر بھی اگر نظر ڈالی جائے تو انہیں اپنے حق کے لیے لڑنا ہی پڑۓ گا۔
دوسری جانب ایران کو لگنے والی سرحد پر بند کی گئی تجارت کو بھی کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگر آپ کے گھر کوئی آئے، آپ ہی کا کمرہ بھی استعمال کرے اور پھر آپ ہی کو آنکھیں بھی دکھائے۔ اس عمل سے آپ یقینا دلبرداشتہ ہوں گے۔
اب زرا سوچیے بلوچستان میں ویسے ہی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں، ایسے میں ان سے جو روزگار موجود ہے وہ بھی چھینا جا رہا ہے۔ اس سے عوام میں غم و غصہ ضرور پیدا ہوگا، اور اپنے حق کے لیے باہر نکلنے کا جذبہ بھی زور پکڑے گا۔
سمندر کنارے بسنے والے ان لوگوں کو صاف پانی پینے کی سہلوت نہیں ہے، لوگوں کے پاس بجلی کا خاطر خواہ انتظام نہیں ہے، گیس کے ذخائر رکھنے والے اس صوبے میں صوبے کی عوام کے لیے گیس ناپید ہے۔ ایسی صورتحال میں اگرچہ دشمن آگ نہ لگائے، عوام ہی ناکوں کان چنے چبا سکتی ہے۔
احتجاج کرنے والی عوام کے مطالبات ریاست مخالف نہیں ہیں اور نہ ہی وہ الگ ملک کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ وہ صاف پانی، ٹرالر مافیا سے نجات، شراب خانوں پر پابندی سمیت دیگر مطالبات کیے گئے ہیں۔
شہری یہ دھرنا بھی اس وقت تک ختم نہیں کر رہے ہیں جب تک انہیں سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی ہے۔ اس سے پہلے بھی گوادر میں چینی ملازمین کی حفاظت کے لیے نوگو ایریا بنایا گیا تھا جس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی تھی۔
یوں اس طرح خواتین کا بھی گوادر کو حقوق دو کی ریلی میں شرکت کرنا اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ شہری اب اپنا حق مانگنے کے لیے جوش و جذبہ رکھتے ہیں۔
حکومت وقت کو اس بات کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ عوام کے غم و غصے کو چیلنج کرنا کسی بڑے حادثہ کا سبب بن سکتا ہے۔