عام طور پر ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ہندو اپنے مُردے کو جلاتے ہی ہیں اور ہوتا بھی یہی ہے مگر سندھ میں بسنے والے ہندو پیاروں کو دفناتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی موضوع سے متعلق کچھ ایسی معلومات فراہم کریں گے جو ہو سکتا ہے آپ پہلے نہیں جانتے ہوں۔
پاکستان میں اس وقت 55 لاکھ سے زائد ہندوں بس رہے ہیں جبکہ ہندو کمیونٹی کا دعویٰ ہے کہ اس وقت 80 لاکھ ہندو پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ ہندو کمیونٹی کو پاکستان میں سرکاری نوکریاں بھی ملتی ہیں، مذہبی تہوار بھی مناتے ہیں مگر آخری رسومات میں ہندو کاسٹ تقسیم ہے۔
یعنی اونچی ذات کے ہندو مردوں کو جلاتے ہیں لیکن نچلی ذات کے ہندو مُردوں کو دفن کرتے ہیں۔ پاکستان میں 80 فیصد ہندو اسی نچلی ذات سے تعق رکھتے ہیں۔ نچلی ذات کے ہندوؤں کا مرکز صحرائے تھر ہے جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔
سندھ کے ہندوں مردوں کو کئی وجوہات کی بنا پر دفناتے ہیں۔ مہاراج وجے کے مطابق ذات پر مبنی اس نظام میں ہندو دھرم میں پنڈت اونچی ذات سے ہوتے ہیں، ماضی میں اکثر پنڈت نچلی ذات کے ہندوؤں کے مذہبی رسومات میں نہیں جاتے تھے، جس کی وجہ سے مجبورا نچلی ذات کے ہندوں مُردوں کو دفنانے لگ گئے۔
جبکہ کچھ لوگ پنڈت بن گئے لیکن یہ عمل پاکستان میں عام ہو گیا، 90 سالہ پنڈت مہاراج نہال چند گیان چندانی کا کہنا ہے کہ مُردوں کو جلانے یا دفنانے کی تاریخ کے بارے میں واضح طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا مگر بچپن میں سنا تھا کہ سن 1899 عیسوی کو جب بکرمی کیلنڈر کا سال 1956 تھا، تب تھر میں ریکارڈ شدہ تاریخ کا بدتری قحط آیا تھا، جسے لوگ بکرمی سال 1956 کی وجہ سے چھپنو قحط کہتے ہیں۔ اس قحط سالی میں روانہ درجنوں لوگ مرتے تھے جنہیں اجتماعی طور پر دفنایا جاتا تھا، جس کے بعد سے اب تک دفناتے آ رہے ہیں۔
ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ خشک سالی کے باعث درختوں کی قلت کی وجہ سے لکڑیاں میسر نہیں ہوئیں تو جلانے کے بجائے دفنانا شروع کر دیا۔ مہاراج کا کہنا تھا کہ اگر دفنانے سے پہلے مردے کے جسم کے کسی حصے کو اگر بتی سے جلا دیا جائے تو اگنی سنسکار یعنی آخری رسومات ادا ہو جاتی ہیں۔
ایک اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے، مہنگائی کے اس دور میں اگنی سنسکار کے لیے اوسطا 15 سے 20 ہزار روپے خرچہ آتا ہے، کیونکہ اس رسم کے لیے 12 من مہنگی لکڑی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ گھی، کافور، ناریل، تل اور اگر بتی بھی آخری رسومات میں استعمال کی جاتی ہیں۔
کراچی میں موجود ہندوؤں کے قبرستان:
کراچی میں بھی ہندوؤں کے قبرستان موجود ہیں، پرانا گولیمار میں ہندو کاسٹ شیڈو کاسٹ کا ایک بڑا قبرستان واقع ہے جہاں پرانی قبریں بھی موجود ہیں۔ جبکہ ماڑی پور اور ڈرگ روڈ پر بھی چھوٹ قبرستان واقع ہیں۔ یہ قبرستان صرف نچلی ذات کے ہندوؤں کے لیے بنائے گئے ہیں جبکہ اونچی ذات کے ہندوں شمشان گھاٹ میں ہی لائے جاتے ہیں۔