کراچی میں منگل بازار، بدھ بازار جمعہ بازار اور اتوار بازار جہاں جہاں لگایا جاتا ہے وہاں لنڈا کے کپڑے ضرور ہوتے ہیں جو سستی قیمت میں عوام خریدتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان بازاروں کو لنڈا بازار بھی کہا جاتا ہے۔
شہر کراچی کی بڑی تعداد ان لنڈا مارکیٹ کا رخ کرتی ہے کیونکہ ان کا یہی ماننا ہے کہ وہاں سے خریداری کر کے ان کی خاصی بچت ہوجاتی ہے۔
لیکن آج ہم جانیں گے کہ لنڈا کے اچھے کپڑے کراچی آکر کہاں چلے جاتے ہیں؟
اولڈ کلوتھنگ فیکٹری میں کام کرنے والے اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ مغربی ممالک میں جو لوگ اپنے کپڑے عطیہ کرتے ہیں دراصل یہ وہ کپڑے ہوتے ہیں جو ہم خریدتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہاں سے آنے والے بڑے بنڈل کے اندر ہر قسم کےکپڑے موجود ہوتے ہیں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ مال نکال کر بیلٹس پر لاتے ہیں جنہیں کھولا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں کپڑوں کا معیار نہیں دیکھا جاتا بس جس ورکر کو جو کپڑا نکالنا ہوتا ہے وہ کرتا ہے۔
مزید یہ معلوم ہوا کہ اگر کپڑا کہیں سے پھٹا ہوا ہو تو ریجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب ان کپڑوں کی فائنل بیلز بنتی ہیں تو پھر یہ دوبارہ مختلف ممالک میں ری ایکسپورٹ ہوتی ہیں جن میں افریقہ، جنوبی امریکہ وغیرہ۔