پاکستان میں ایسے کئی لوگ ہیں جو کہ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے ایسے کام کر رہے ہیں جو کہ کوئی عام شخص کر بھی نہیں سکتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی شخص کے بارے میں بتائیں گے جو بہت ہی مشکل صورتحال سے گزارا کر رہا ہے۔
کراچی کے علاقے لانڈھی سے تعلق رکھنے والے جمال شاہ کا تعلق ایک مڈل کلاس گھرانے سے ہے جہاں گھر کی ذمہ داری انہی کے ذمہ ہے۔
جمال ایک آرٹسٹ ہیں جو پچھلے 25 سال سے جوکر بن کر لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر رہے ہیں۔ والدین کی ذمہ داری، بیٹے کی بیماری، اور گھر کا خرچ، جمال اگرچہ پریشان حال ہیں مگر جب وہ جوکر بنتے ہیں تو تماتم غم جوکر کے چہرے کے پیچھے چھپا لیتے ہیں۔
کوئی نہیں جانتا ہے کہ جوکر کی طرح دکھنے والا یہ شخص کتنے غموں اور پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے۔
49 سالہ جمال نے ڈیجیٹل اسٹوریز کو اپنا انٹرویو دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں لانڈھی سے برنس روڈ، پیپلز اسکوائر آتا ہوں۔ یہاں آ کر میں لوگوں کو خوش کرتا ہوں، بچے مجھے دیکھ کر کافی خوش ہوتے ہیں۔ اگرچہ آنے میں وقت لگتا ہے مگر میں مینیج کر لیتا ہوں۔
کئی لوگ مجھے سالگرہ کی تقاریب میں دعوت دیتے ہیں، جبکہ اسکولوں میں بھی بلایا جاتا ہے۔ جمال کا مزید کہنا تھا کہ میں میجک شو کرتا ہوں، پپٹ شو اور جگلینگ بھی کرتا ہوں۔
اپنے آپ کو مار کر دوسرو کے چہرے پرہنسی لانا آسان نہیں ہے مگر شاید اس سب سے جمال کا گھر چل سکتا ہے، چونکہ یہ رزق حلال ہے یہی وجہ ہے کہ جمال اس کام کو اپنے لیے ایک روشن دروازے کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں سے وہ اپنی مشکلات سے چھٹکارا پانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
جمال کہتے ہیں کہ اللہ پاک نظام چلا دیتا ہے، لوگ تعاون کرتے ہیں جس کی وجہ سے مجھے ٹپ دیتے ہیں، لوگ میرا کام پسند کرتے ہیں اور میرے کام کی تعریف کرتے ہیں۔
جمال کے والدین اور بچے بھی اس بات کو جانتے ہیں کہ جمال جوکر بن کر دوسروں کے چہروں پر ہنسی بکھیر کر ہمارے لیے دو وقت کی روٹی لاتا ہے۔ جمال کے کاسٹیوم پر ہفتہ کا 3 ہزار روپے کا خرچہ آتا ہے۔ میں مختلف رنگوں کی مدد سے جو مجھے پسند ہوتا ہے ویسا ہی کاسٹیوم تیار کرتا ہوں۔
جمال کے لیے صورتحال اس وقت خراب ہوتی ہے جب انہیں لوگ راستے میں تنگ کرتے ہیں۔ لیکن جہاں برائی ہوتی ہے وہاں اچھائی بھی پائی جاتی ہے، جمال کو کئی لوگ سپورٹ بھی کرتے ہیں اور انن کی تعریف بھی کرتے ہیں جس سے انہیں مزید حوصلہ ملتا ہے۔
بعض اوقات میں بہت پریشان ہوتا ہوں مگر میں پھر بھی لوگوں کو ہنساتا ہوں، حال ہی میں میری اہلیہ گر گئی تھیں جس سے ان کی ٹانگ یں فریکچر ہوا تھا، بیٹا بھی بیمار ہے۔ ان کے سر میں شرنگ ڈلی ہوئی ہے۔ اس سب مشکل صورتحال میں بھی میں ان کی خاطر پریشانیاں بھلا کر ان کے لیے کماتا ہوں۔
جمال پُر امید ہیں کہ جب تک میرے ہاتھ پیر سلامت ہیں میں اپنے فن کے ذریعے اپنے گھر والوں کی مدد کرتا رہوں گا۔