پاکستانی میڈیا اب تک جھوٹ بولتا آ رہا ہے؟ مظہر عباس نے یہ سب کیوں اقرار کیا؟

image

پاکستانی میڈیا اپنے متنازع بیانیہ اور یکطرفہ پالیسی کی بنا پر عوام میں کافی مقبول بھی ہے اور بدنام بھی۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو سینئیر صحافی مظہر عباس سے متعلق بتائیں گے جس میں انہوں نے پاکستانی میڈیا کو جھوٹا قرار دیا ہے

اتوار کے روز آرٹس کونسل میں عالمی اردو کانفرنس میں ایک سیشن منعقد ہوا جس کا نام تھا پاکستانی صحافت کا جائزہ، اس سیشن میں صحافی مظہر عباس، وسعت اللہ خان سمیت میڈیا کی جانی مانی شخصیات موجود تھیں۔

اس سیشن میں دیگر صحافیوں کی جانب سے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا گیا مگر صحافی مظہر عباس کا موقف سب کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

مظہر عباس نے اس سیشن میں مظہر عباس نے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سچ نہیں بول رہے ہیں، ہم لوگوں کو سچ نہیں بتا رہے ہیں۔ جو صحافی سچ بتانے کی کوشش کرتا ہے، اس پر جو سختیاں آتی ہیں وہ اپنی جگہ مگر کوئی میڈیا مالکان بھی اس صحافی کو سپورٹ نہیں کرتا ہے۔

صحافیوں کے قتل سے متعلق مظہر عباس نے کہا کہ جو صحافی مار دیا جاتا ہے، اس کی انشورنس کا مطالبہ ہم حکومت سے کرتے ہیں مالک سے نہیں۔ میں اگر ڈیوٹی کے دوران مارا جاتا ہوں، تو حکومت کی ذمہ داری ہے مجرمان کو گرفتار کرنا، میرے ادارے کی ذمہ داری ہے کہ مجھے پروٹیکٹ کرے۔

پاکستانی میڈیا سے متعلق مظہر عباس کا کہنا تھا کہ ہمارا میڈیا کا ماڈل بدقسمتی سے جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے۔ ہم سچ نہیں بول رہے ہیں، اور جو سچ بول رہے ہیں ان کے لیے مشکلات ہیں۔ جعلی خبریں آج کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پاکستان کے قیام سے ہے۔

ہمیں اس چیز پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم لوگوں سے سچ کب بولیں گے۔ ہمیں قبول کرنا چاہیے کہ ہم نے لوگوں کو گمراہ کیا۔ مظہر عباس نے بتایا کہ ہم نے مارشل لاء کے زمانے میں جھوٹی تصاویر چلائیں، چار لوگوں میں مٹھائی تقسیم کرتے ہوئے تصاویر لی گئی۔

اگر عوام خوش ہوتی تو کچھ ماہ بعد مارشل لاء کے خلاف کیوں نکلی؟ صحافی مظہر عباس کے اس بیان نے میڈیا کی قلعی کھول دی ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں خود میڈیا کو اس کس حد تک نقصان پہنچا ہے، وہ بھی واضح کر دیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US