سردی کے موسم میں نہانے کے لئے پانی گرم کرنا مصیبت بنتا جارہا ہے کیونکہ سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے نہ تو گیزر پانی گرم کرتا ہے اور نہ ہی دیگچی کو چولہے پر رکھ کر پانی گرم کرسکتے ہیں لیکن اس پریشانی سے نجات کے لئے اب الیکٹرک گیزر مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
الیکٹرک گیزر کی اقسام
پاکستان میں اس وقت مختلف اقسام کے گیزر دستیاب ہیں۔ ایک گیزر منی الیکٹرک گیزر کہلاتا ہے جو کسی بھی نل میں فٹ کیا جاسکتا ہے۔ البتہ ہم جس الیکٹرک گیزر کے بارے میں آج بات کررہے ہیں وہ ایک سیٹ کی صورت میں دستیاب ہے جو باتھ روم میں نہانے کے لئے گرم پانی کی مکمل سہولت دیتا ہے۔ اس الیکٹرک گیزر میں بھی دو کیٹگریز آتی ہیں ایک انسٹنٹ الیکٹرک گیزر اور دوسرا انسٹنٹ اسٹوریج الیکٹرک گیزر۔ انسٹنٹ اسٹوریج گیزر میں کئی لیٹر پانی گرم رکھنے کی گنجائش ہوتی ہے۔
بجلی کی زیادہ بچت کرتا
انسٹنٹ الیکٹرک گیزر کی سب سے بہترین بات یہ ہے کہ اس میں سوئی گیس کی ضرورت تو ہوتی ہی نہیں لیکن بجلی بھی بہت کم استعمال کرتا ہے۔ الیکٹرک گیجٹس بیچنے والے ایک دکان دار کے مطابق اگر انسٹنٹ الیکٹرک گیزر کو مسلسل ایک گھنٹے تک استعمال کیا جائے تو یہ صرف3.5 یونٹس استعمال کرتا ہے جس کا مطلب ہے کہ صرف چالیس پچاس روپے میں گھر کے تمام افراد نہاسکتے ہیں۔
محفوظ ہوتا ہے
عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ الیکٹرک گیزر چونکہ بجلی سے چلتا ہے اور باتھ روم میں پانی ہوتا ہے تو یہ کسی قدر خطرناک ہوسکتا ہے اور کرنٹ بھی آسکتا ہے جبکہ سیلز مین کے مطابق اب دنیا بھر میں الیکٹرک گیزر زیادہ استعمال ہوتے ہیں اور یہ خطرناک اس لئے نہیں ہوتے کیونکہ کسی بھی قسم کے خطرے کی صورت میں الیکٹرک گیزر خودبخود بند ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس سیٹ کے ساتھ موجود شاور میں پانی کا درجہ حرارت کم زیادہ کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
قیمت
امپورٹڈ الیکٹڑک گیزر کی تمام اقسام کی قیمتیں کم سے کم 16 ہزار سے شروع ہوتی ہیں جو معیار کے حساب سے زیادہ بھی ہوسکتی ہیں۔