بینائی سے محروم یہ نوجوان ایمازون پر کام کر کے لاکھوں روپے کیسے کما رہا ہے؟ اقرار الحسن بھی دیکھ کر حیران رہ گئے

image

دنیا بھر کے تمام کاروبار آہستہ آہستہ ڈیجیٹل ہوتے جا رہے ہیں اس ہی لیے آپ نے کئی بار یہ جملہ سُنا ہوگا کہ اب تو ڈیجیٹل دور ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کل نوجوان نسل آن لائن کام کی طرف زیادہ توجہ دینے لگی ہے تاکہ گھر بیٹھے ہی کمائی بھی ہو اور بزنس بھی سیٹ ہو جائے۔

آج ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں ایک ایسے لڑکے کے بارے میں جو بینائی سے محروم ہے مگر اس کی صلاحیتوں نے سوشل میڈیا پر دھول مچا رکھی ہے، اس ہی لئے اس نوجوان لڑکے سے ملنے اقرار الحسن بھی سیالکوٹ کے اس نواحی گاؤں میں پہنچ گئے جہاں یہ نابینا نوجوان لڑکا آن لائن کام کر کے گھر بیٹھے ہی لاکھوں روپے کما رہا ہے۔

اس نوجوان کا نام محمد انس ہے جو بینائی سے محروم ہے مگر حوصلے بلند ہیں انس ایمازون پر آن لائن کام کرتے ہیں اور اسی کام سے گھر بیٹھے ہر ماہ لاکھوں روپے کما رہے ہیں وہ یہاں تک کیسے پہنچے اور کس طرح ایمازون پر کام شروع کیا یہ جاننے کے لئے اقرار الحسن کو بھی یہ سوالات انس سے ملاقات کے لئے کھینچ لائے۔

انس نے ایمازون پر کام کیسے شروع کیا؟

انس نے اقرار الحسن کو انٹرویو میں بتایا کہ وہ ایک دن یوٹیوب پر اسکرولنگ کر رہے تھے کہ انہوں نے حافظ احمد کی ویڈیو دیکھی جس میں ایمازون پر آن لائن کام سیکھانے اور مکمل کورس کروانے کے بارے میں بتایا جا رہا تھا۔

جس کے بعد انس نے فوری پاکستان میں ایمازون پر آن لائن کام سکھانے والے شخص حافظ احمد سے رابطہ کیا اور ان سے ٹریننگ لے کر ایمازون پر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی، حافظ احمد کے آفس سے انس نے ایمازون پر آن لائن کام کرنے کی تربیت حاصل کی اور بس پھر تیزی سے کام شروع کر دیا۔

انس بینائی سے محروم ہیں مگر انہوں نے اپنے لیپ ٹاپ پر اسکرین ریڈر سیٹ کیا ہوا ہے جس کے زریعے وہ باآسانی لیپ ٹاپ چلاتے اور سارا آن لائن کام بھی کرتے ہیں، اور اس ہی طرح وہ ایمازون پر آن لائن فری لانسنگ کے زریعے سے ہر ماہ لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔

محمد انس ان تمام لوگوں کے لئے ایک مشعلِ راہ ہیں جو بےروزگاری کی وجہ سے پریشان ہیں اور انس کا حوصلہ اور کچھ کر دکھانے کی چاہت دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US