میرپورخاص میں کچھ روز قبل نجی بینک کے کسٹمر آفیسر عبد الوہاب غوری کو سیکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا اور اس کے بعد خود کو بھی گولی مار دی تھی۔ یہ نوجوان لڑکا 26 سال کا تھا جو صبح کے وقت اپنے گھر سے بینک جانے کے لئے نکلا۔ تفصیلات کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ جب دن کے 11 سے 12 بجے تو اس نے سیکیورٹی گارڈ کو آواز دے کر بلایا اور کسی کام کے لئے کہا جس پر سیکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کردی اور پہلے عبدالغوری کو مارا، پھر خود کو بھی گولی مار دی۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل اس لئے نہ ہوسکا کیونکہ معاملہ نجی بینک کی عزت کا تھا جوکہ پاکستان کا ایک بڑا بینک ہے۔ لیکن حیران کُن بات یہ ہے کہ اتنے بڑے بینک کی برانچ کے سیکیورٹی گارڈ کے پاس اسلحہ موجود ہے، لیکن اسے یہ نہیں معلوم کہ اس کو کب اور کہاں استعمال کرنا ہے؟
کیا بینک والے سیکیورٹی گارڈز رکھتے وقت ان کی تفتیش نہیں کرتے؟ ان کو اسلحے کی ٹریننگ نہیں دیتے؟ آخر یہ معاملہ صرف اتنی سی بات پر کیوں پیش آیا؟ اس حوالے سے نجی بینک کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا، لیکن اس سب میں اس نوجوان لڑکے اور والدین کا کیا قصور جو زندگی بھر اس کو یاد کرکے یہ سوچ کر خود کو آسرا دیں گے کہ سیکیورٹی گارڈ ذہنی دباؤ کا شکار تھا؟
ایک نجی سروے کے مطابق:
''
مُلک بھر میں جب سیکیورٹی گارڈ رکھے جاتے ہیں تو ان کو اسلحے کی ٹریننگ صرف ان جگہوں پر دی جاتی ہے جہاں وی وی آئی پی لوگوں کا گزر ہو، کوئی بینک ہو یا کوئی آفس کسی قسم کی گارڈ ٹریننگ کو فروغ نہیں دیتا جس کی وجہ سے ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔
''