چند ہفتے بعد ہم ایک نئے سال میں داخل ہو جائیں گے، اس امید سے کے آنے والا سال پچھلے سے بہتر ہوگا۔ مگر رواں سال دنیا بھر میں اور خاص طور پر پاکستان میں کچھ ایسے حادثات پیش آئے، جس نے ہماری زندگیوں کو کسی نہ کسی طریقے سے متاثر کیا تھا۔
ترکی میں خوفناک آگ
ترکی کے 53 صوبوں میں پھیلی جنگلاتی آگ 270 مقامات کو اپنے قبضے میں لیا ہوا تھا۔ 28 جولائی کو لگنے والی آگ پر 12 اگست تک قابو پایا گیا۔ جبکہ اس حادثے میں 9 افراد ہلاک اور ہزاروں افراد زخمی ہوگئے تھے۔
اس کے علاوہ اس جنگلاتی آگ پر قابو پانے کیلئے مختلف ممالک نے ترکی کو مدد فراہم کی تھی، جس پر صدر رجب طیب اردوغان نے ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا تھا۔
غزہ پر اسرائیل حملہ
رواں سال رمضان المبارک کے دوران مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے داخل ہونے پر فلسطینیوں اور اسرائیل فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں تھی۔ تاہم مسجدِ اقصیٰ کی تقدس کو پامال کرنے پر حماس کی جانب سے اسرائیل کے جنوبی اور شمالی علاقوں پر راکٹ داغے گئے تھے۔ جبکہ اسرائیلی فضائیہ نے غزہ پر شدید بمباری کی تھی، جس کے نتیجے میں 200 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوگئے تھے، جن میں 64 بچے بھی شامل تھے۔ جبکہ ان جھڑپوں کے دوران ہزاروں افراد زخمی ہوگئے تھے۔
بعدازاں اقوام متحدہ اور مسلم ممالک کی مداخلت کے بعد امن معاہدہ طے پایا گیا تھا۔
سیالکوٹ واقعہ
3 دسمبر جمعے کے روز سیالکوٹ کی ایک نجی کمپنی کے غیر ملکی مینجر پریانتھا کمارا پر توہین مذہب کا الزام لگا کر، مشتعل افراد نے تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد، ان کی لاش کو آگ لگا دی گئی تھی۔ تاہم اس واقعے کے بعد ملک میں غم وغصہ اور سرلنکا شہری کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔
بعدازاں پولیس کی کارروائی میں 100 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جنہیں عدالتی حکم پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔ دوسری جانب اس واقعے پر وزیراعظم عمران خان نے افسوس کا اظہار کیا گیا تھا، اور واقع میں ملوث افراد کے خلاف سخت ایکشن لینے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔
بلوچستان میں زلزلہ
رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں 6 اکتوبر کی رات 3 سے 4 بجے کے قریب ہرنائی، سبی، کوئٹہ سمیت، مختلف حصوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ جبکہ زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی تھی، زلزلے کا مرکز ہرنائی کے قریب بتایا گیا تھا۔
شدید زلزلے کے باعث 20 سے زائد افراد جاں بحق اور 300 سے زائد افراد کے زخمی ہوگئے تھے۔ تاہم 70 سے زائد مکانات کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
.
ملک بھر سے بجلی غائب
رواں سال کے پہلے ماہ جنوری کی 10 تاریخ کو پاکستان بھر میں 90 فیصد بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی تھی۔ متاثر ہونے والے حصوں میں سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔
وزارات پاؤر ڈویژن کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 10 جنوری کی رات 11:41 پر گدو میں فالٹ پیدا ہونے کی وجہ سے ملک کی 90 فیصد ٹرانسمشن لائن میں ٹرپنگ ہوگئی تھی۔ جس کی وجہ سے 1 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں ملک بھر میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی تھی۔