ہر سال کی آغاز میں لوگ خوشیاں مناتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں کہ نیا سال ان کی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں لائے لیکن ہوتا کچھ یوں ہے کہ ہر سال جہاں اپنے ساتھ کئی خوشیاں لاتا ہے وہیں کچھ ایسے غم دے جاتا ہے جو بھلائے نہیں بھولتے۔ اس سال بھی ہمارے ملک کے کچھ ایسے نامی گرامی افراد ہم سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے جو کبھی اس ملک کی پہچان ہوا کرتے تھے۔ تو آئیے ایک بار ان تمام کھو جانے والے ستاروں کو یاد کرتے ہیں جو اب ہمارے ساتھ نہیں۔
عمر شریف
کامیڈی کنگ عمر شریف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بھارت اور دنیا بھر میں اپنی بذلہ سنجی سے مشہور تھے۔ لاکھوں لوگوں کو ہنسانے والے عمر شریف کئی سالوں سے دل کے مرض میں مبتلا تھے اور بالآخر 2 اکتوبر کو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
سنبل شاہد
معروف اداکارہ سنبل شاہد سے کون واقف نہیں؟ جہاں وہ خود ایک مشہور اداکارہ تھیں وہیں ان کا ایک تعارف بشریٰ انصاری کی بہن ہونا بھی تھا۔ سنبل کا انتقال اگرچہ اس سال کورونا وائرس میں مبتلا ہوکر ہوا لیکن یہ بات سب جانتے ہیں کہ سنبل شاہد اپنے جوان بیٹے کی حادثاتی موت کی وجہ سے پہلے ہی ٹوٹ چکی تھیں۔
حسینہ معین
حسینہ معین کا شمار پاکستان کی پائے کی اداکاراؤں اور لکھاریوں میں ہوتا تھا۔ 79 برس کی عمر میں حسینہ کا انتقال کراچی میں 26 مارچ کو ہوا۔
شوکت علی
معروف لوک گلوکار شوکت علی اپنے فن کی وجہ سے ایک بڑا نام تو تھے ہی لیکن بحیثیتِ انسان وہ اپنی عاجزی اور انکساری کی وجہ سے بھی پہچان رکھتے تھے۔ شوکت علی کا انتقال لاہور میں رواں برس اپریل کے مہینے میں ہوا۔ شوکت علی جگر کے مرض میں مبتلا تھے۔
دردانہ بٹ
دردانہ بٹ مزاح کے حوالے سے نمایاں نام تھیں۔ ان کا انتقال بھی کوروناوائرس میں مبتلا ہو کر 83 برس کی عمر میں کراچی میں ہوا۔
انور اقبال
انور اقبال سینئیر اداکار تھے جو اردو کے علاوہ سندھی ڈراموں میں بھی اداکاری کر کے نام بنا چکے تھے۔ انور اقبال کئی سالوں سے کینسر میں مبتلا تھے اور ان کا انتقال اس سال کراچی میں ہوا۔
سہیل اصغر
لیجنڈری اداکار سہیل اصغر کا انتقال بھی اس سال نومبر کے مہینے میں ہوا۔
دیگر مشہور شخصیات
ان شخصیات کے علاوہ نیلو بیگم، اداکارہ طلعت صدیقی، سلطانہ ظفر، پروفیسر عابد فاروق اور بل بتوڑی کا مشہور کردار ادا کرنے والی بیگم نصرت آرا کا انتقال بھی اس سال ہوا۔