لاہور کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے لیکن کیا کہیں کہ کافی سالوں سے یہ دل ہر سال سردی کے موسم میں اسموگ کا شکار ہوکر کمزور ہوچلا ہے۔ دھند کی وجہ سے آئے روز ٹریفک حادثات ہورہے ہیں تو آلودگی کی وجہ سے شہری گلے اور سانس کے امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم بات کریں گے کہ اسموگ کیا ہے اور اس کے اثرات سے شہری خود کو کیسے بچا سکتے ہیں؟
اسموگ کیا ہے؟
اسموگ دراصل انگریزی کے دو الفاظ smoke اور fog سے ملک کر بنا ہے۔ اسموگ سے مراد ایسی دھند ہے جس میں دھواں اور آلودگی شامل ہو۔ اسموگ سرمئی اور زردی مائل رنگ کی دھند ہوتی ہے جس میں مختلف گیسیں، آبی بخارات، دھول مٹی شامل ہوتے ہیں۔
اسموگ کیسے بنتی ہے اور سردیوں میں بڑھ کیوں جاتی ہے؟
اسموگ بننے کی وجوہات میں گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، فصلوں کو جلانے والی آگ، سردی میں ایندھن کو جلد کر بننے والا دھواں اور دیوالی کے پٹاخے سے پھوٹنے والا دھواں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گندگی، دھول مٹی اور مختلف قسم کی زہریلی گیسیں جیسے کہ کاربن ڈائی آکسائد، کاربن مونو آکسائڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائد اور کاربن سلفرآکسائڈ وغیرہ جب سورج کی روشنی سے ٹکراتی ہیں تو اسموگ بننا شروع ہوتی ہے۔
یہ اسموگ سردیوں میں زیادہ اس لئے بنتی ہے کیونکہ عام طور پر پاکستانی اور بھارتی پنجاب میں لگی فصلوں کی کٹائی اور ان کو جلانے کا عمل سردی کے موسم میں کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سردیوں میں فضا میں نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے ہوا چلتی نہیں بلکہ ٹہر جاتی ہے۔ اس لئے فضا میں موجود اسموگ بھی زیادہ دیر تک ایک جگہ ٹہری رہتی ہے۔
اسموگ کے نقصانات اور اس سے بچاؤ کے طریقے
اسموگ سے ہونے والی بیماریوں میں آنکھوں سے پانی بہنا، ناک کان اور گلے میں خارش، کھانسی، نزلے کے علاوہ پھیپھڑوں اور دل کے مرض میں شدید اضافہ شامل ہے۔ اگر مسلسل اسموگ کا سامنا کرنا پڑے تو پھیپھڑوں کا کینسر بھی ہوسکتا ہے اس کے علاوہ یہ دمہ کے مرض کو بھی انتہائی حد تک بڑھا دیتا ہے
غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں
ایسے دنوں میں غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں جب اسموگ فضا میں بہت زیادہ موجود ہو۔ خاص طور پر بچوں، بڑوں اور دمے سے متاثر افراد کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
کھلی فضا میں ورزش
ورزش کرنا صحت کے لئے بہت ضروری ہے لیکن ایسی فضا میں ورزش کرنا جہاں اسموگ موجود ہو بہت زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ورزش کے دوران انسان تیزی سے سانس لیتا ہے اور اسموگ کی صورت میں تیز رفتاری سے اسموگ پھیپھڑوں میں داخل ہوجائے گی۔ اس لئے اسموگ کے دوران کھلی جگہ دوڑنے اور بھاگنے سے پرہیز کریں۔
ماسک پہنیں
آج کل کے ماحول میں ماسک پہننا یوں بھی ضروری ہے کیونکہ ماسک کرونا وائرس سے ہمیں بچاتا ہے۔ اسی طرح اسموگ کو پھیپھڑوں میں داخل ہونے سے روکنے میں بھی ماسک کارآمد ہے۔
پانی زیادہ پئیں
پانی جسم سے آلودہ مادوں کو خارج کرنے کے لئے اہم کردار ادا کرتا ہے اس لئے پانی زیادہ سے زیادہ پئیں۔
ائیر پیوریفائرز
ائیر پیوریفائیرز خرید کر گھر میں رکھے جاسکتے ہیں یہ گھر یا دفاتر کی فضاؤں سے زہریلی گیس باہر نکال دیتے ہیں۔