شادی کرنا آج کل بہت مشکل ہوگیا ہے۔ خرچوں کی لائن لگ جاتی ہے۔ پیسوں سے بھرے ہوئے اکاؤنٹ خالی ہو جاتے ہیں۔ لاکھوں روپے شادی ہال کی بکنگ میں لُٹائے جاتے ہیں تو لاکھوں کھانے پینے میں، پھر رسوم و رواج اور لوازمات کا خرچہ بھی ہوتا ہے۔ ان سب کے ساتھ دولہا دلہن اور گھر والوں کے کپڑوں، جیولری، جوتے اور دیگر ضروری اشیاء کا خرچہ وغیرہ۔ پھر ساتھ ہی لڑکی کا جہیز اور بری وغیرہ بھی تیار کرنا۔ یہ تمام خرچے کچھ کم نہ تھے کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضآفہ کیا اور اب سردی میں گیس کی شدید قلت پڑگئی۔ آج کے دور میں کی جانے والی شادیوں میں سونا یا چاندی نہیں بلکہ اب لوگ دولہا دلہن کو ہیٹرول کی بوتلیں اور گیس کے سلینڈر دے رہے ہیں۔
بھارت میں 3 ماہ قبل ایک شادی میں دیکھا گیا تھا کہ ایک مقامی وزیر نے اپنی کزن کو شادی میں پیٹرول کی دو بوتلیں تحفے میں دیں اور کہا کہ اس سے قیمتی تحفہ میں تمہیں دے نہیں سکتا۔ گھومنے جانا اور مجھے یا د رکھنا۔
ایسی ہی ایک شادی کا احوال تامل نادو نے سامنے آیا دولہا کے قریبی دوستوں نے مل جل کر اپنے دوست کو ایک گیس کا بڑا سلینڈر اور 6 لیٹر پیٹرول کی ایک بوتل گفٹ کردی۔ جس پر دولہے میاں نے خوشی کا اظہار بھی کیا اور ان بوتلوں کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔
آپ لوگ بھی اپنے قریبی رشتے داروں کو سونے چاندی نہیں بلکہ یہ تحفے دیں تاکہ وہ بھی مشکل وقت میں پیٹرول کو استعمال کریں اور آپ کو دعائیں دیں۔