ویسے تو پاکستان میں سیاحتی مقامات ہر جگہ موجود ہیں، اور یہ مقامات توجہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن کچھ مقامات ایسے ہیں جو اپنے خاموشی کی بدولت بھی مشہور ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے مقام سے متعلق ہی بتائیں گے جہاں جانا خطرے سے خالی نہیں ہے مگر جگہ ہے بھی پُرسکون۔
گلگت بلتستان کی خلطارو ویلی بھی ایک ایسا ہی سیاحتی مقام ہے جس کے پُر خطر راستے اور خوفناک ماحول ایک ایسا سماں باندھ دیتی ہے جو کہ دیکھنے والوں کو اپنے زیر اثر رکھتا ہے۔
اس ویڈیو میں بھی یحیٰ خان نامی پیج پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی گئی تھی، جس میں یحیٰ خان نامی مقامی سیاح اسی ویلی کی سیر کرا رہا تھا۔
اس ویڈیو میں اسکردو روڈ کے قریب واقع اس ویلی پر یحیٰ خن نے موٹر سائیکل پر اپنی منزل کی جانب جانے کا فیصلہ کیا، اوپر نیچے، پُر خطر راستوں پر وہ اللہ کا نام لے کر آگے بڑھ رہے تھے۔
اس ویلی تک پہچنے سے پہلے یحیٰ خان نے گلگلت بلتستان کے میٹھے رسیلے آڑو کا مزاح بھی لیا۔
اس منزل کے دوران یحیٰ خان جیسے جیسے اوپر کی جانب پہاڑ پر سفر کر رہے تھے ان کا راستہ مزید مشکلات پیدا کر رہا تھا۔ ٹائر کے آگے بڑے بڑے پتھر آ رہے تھے، ایک طرف کھائی تو دوسری طرف ابھرتے ہوئے نوکیلے پہاڑ۔
دونوں اطراف خطرہ ہی خطرہ، لیکن اس سب میں بھی اس مقام پر ایک ایسی خاموشی ہے جو کہ خوفناک حد تک ڈرا رہی ہے۔ یہ خاموشی پہاڑ کے بیچ موجود دھند کے باعث مزید خوف پیدا کرتی ہے۔
لیکن اس سب میں بھی جو شخص خاموشی کو سمجھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ یہ مقامات اس کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ اس سب میں ایک ایسا راستہ بھی یحیٰ خان کو برداشت کرنا پڑا جب پہاڑ نما پُل سے ہو کر انہیں گزرنا پڑا، انہوں نے جب اسے دیکھا تو وہ پریشان ہو گئے تھے۔
یہ راستے اس حد تک خوفناک ہیں کہ رات کے اندھیرے میں اگر کوئی اس مقام سے گزرے بھی تو اسے پہاڑ بھی خوف میں مبتلا کریں گے کیونکہ یہاں دور دور تک آبادی کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔
اس پوری صورتحال میں یحیٰ خان کا کہنا تھا کہ میں مجھے ایسا معلوم ہوا ہے کہ جیسے اس ویلی میں کئی سارے لوگ موجود ہیں، مگر کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔