اب تک 300 بچے حافظ بن چکے ہیں ۔۔ غریب گھر والوں کی مدد کرتی، انہیں اس کے بدلے قرآن پڑھاتی خاتون، دیکھیے ویڈیو

image

ایک بہترین استاد معاشرے کو دھارنے میں، ثقافت اور مذہب سے لگاؤ اور نئی نسل کا دھیان اس طرف راغب کرانے میں مدد کرتا ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسی مدرسہ استانی سے ملوائیں گے، جو معاشرے میں اسلامی تعلیمات کو ختم ہونے سے بچا رہی ہیں۔

استانی گذشتہ 15 سال سے زائد عرصے سے قرآن اور اسلامی تعلیمات کے لیے کام رہی ہیں، وہ بنا کسی ہدیہ یا فیس کے اس کام کر رہی ہیں۔

واچ کراچی کے نام سے موجود اس پیج پر یہ ویڈیو اپلوڈ کی گئی تھی، جس میں استانی کا کہنا تھا کہ میں نے 2005 میں اپنے گھر سے شروعات کی تھی، اس وقت بچوں کی تعداد کم تھی تو میں گھر ہی پڑھا لیا کرتی تھی۔

بچوں کی تعداد بڑھنے پر انہوں نے کرایہ پر گھر بھی لیا جہاں وہ بچوں کو مفت میں اسلامی تعلیم دے رہی تھیں مگر کرایہ کے مسئلے کی وجہ سے انہیں اس جگہ سے جانا پڑا، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

انہوں نے ایک اور جگہ کرایہ پر ہی قرآن کی تعلیمات دینا شروع کر دی۔ استانی اپنے شاگردوں کو صرف قرآن مجید ہی نہیں پڑھاتی بلکہ وہ وضو کے مسائل، اخلاقی اقدار، ماں باپ کا ادب، فرائض اور معاشرے سے متعلق باتیں بھی سکھاتی ہیں۔ جبکہ مسنون دعائیں اور احادیث بھی سکھاتی ہیں۔

کراچی کی اس استانی کے پاس سے اب تک 300 سے 400 بچے حفظ کر کے جا چکے ہیں، جبکہ ناظرہ کرنے والوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔

جب میں پاس میں موجود جھگیوں میں چھوٹے بچوں کو کنچے کھیلتے دیکھا کرتی تھی تو میں انہیں ان کے والدین سے قرآن پڑھنے کی اجازت مانگتی تھی، مگر والدین کہتے تھے کہ آپ کیا دیں گی؟ وہ کہتے تھے کہ آپ ان کے بدلے پسے دیں گی؟ لیکن میں خود اس مقام پر نہیں تھی کہ ان کی مدد کروں تو میں انہیں ثابن دلا دیا کرتی تھی، کھی کسی کو سبزی یا دال دے دیا کرتی تھی۔

یہ استانی اپنی مدد آپ کے تحت یہ کام کر رہی ہیں، انہوں نے کبھی کسی سے مدد نہیں مانگی جبکہ کسی نے ان کی مدد کری بھی نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر کسی کو مدد کرنی ہے تو وہ ہماری جگہ دیکھ لیں اور انہیں جس چیز کی کمی محسوس ہو وہ ہمیں فراہم کر دیں۔

یہ استانی تمام مشکلات کے باوجود معاشرے میں بہتری لانے کے لیے بچوں کو پڑھا رہی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US