پاکستانی سیاست میں گرما گرمی کے دوران ہاتھا پائی نہ ہو ایسا کیسے ممکن ہے، چاہے بجٹ پیش کرنا ہو یا پھر کسی اہم موضوع پر بحث، قومی اسمبلی ہمیشہ ہی سب کی توجہ حاصل کر لیتی ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو آج ہونے والے واقعہ سے متعلق ہی بتائیں گے۔
قومی اسمبلی میں آج منی بجٹ پیش کیا جا رہا تھا کہ اسی دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج سامنے آیا۔ اپوزیشن مہنگائی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہی تھی جبکہ حکومت منی بجٹ پیش کر رہی تھی۔
اسی دوران اپوزیشن ممبرز اپنی سیٹوں سے اٹھ کر اسپیکر کے قریب پہنچ گئے، جس پر حکومتی اراکین بھی سامنے آ گئے، اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما آمنے سامنے تھے کہ اسی دوران پیپلز پارٹی کی ممبر قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی غزالہ سیفی کو تھپڑ رسید کر دیا، تھپڑ کی وجہ سے غزالہ کا چہرہ بھی سُرخ ہو گیا تھا۔
جبکہ غزالہ سیفی کہتی ہیں کہ ان لوگوں کو جنگل میں جا کر رہنا چاہیے، اس ملک میں رہنے کے قابل نہیں ہیں، جبکہ انہوں نے اپنی انگلی بھی دکھائی جو کہ شگفتہ جمانی کے حملے میں زخمی ہوئی ہے۔
شگفتہ جمانی کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ غزالہ نے میرا پوسٹر پھاڑا، میں نے انہیں کہا تھا کہ بدتمیزی نہ کریں، وہ بتاتی ہیں کہ غزالہ نے میری انگلی مروڑی جس پر میں نے اپنے دفاع میں انہیں دھکا دیا۔