سردی کے موسم میں جہاں سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ اور گیس میں پریشر کی کمی سے شہری تنگ آئے ہوئے ہیں وہیں انھوں نے گیس کے پریشر کو بڑھانے کے لئے گیس پریشر مشین کا استعمال بھی شروع کردیا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کا استعمال کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اس کے کیا کیا نقصانات ہیں۔
گیس کا بل بڑھ جاتا ہے
جب اس مشین کے زریعے گیس کا پریشر بڑھتا ہے تو گیس زیادہ آتی ہے اس وجہ سے گیس کا بل بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
بجلی کا بل بھی زیادہ آتا ہے
چونکہ گیس کا دباؤ مصنوعی طریقے سے بڑھانے والی یہ مشین الیکٹرانک ہے اس لئے اس کے استعمال سے بجلی کا بل بھی زیادہ آتا ہے کیونکہ یہ کام کرنے کے لئے کافی بجلی کھینچتی ہے۔
مشین پھٹ سکتی ہے
مصنوعی طریقے سے پائپ سے گیس کھینچنے کے دوران مشین کے حصوں میں گیس بھر جاتی ہے اس وجہ سے اس کے استعمال کو خطرے سے خالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ دورانِ استعمال اس مشین کا پھٹنا کوئی تعجب کی بات نہیں اور اس سے انسانی جان ضائع ہونے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔
جرم ہے
کسی بھی مصنوئی طریقے سے ملکی وسائل کو بڑھا کر وصول کرنا جرم ہے چاہے وہ پانی کی موٹر کے زریعے پانی کھینچنا ہو یا پھر گیس پریشر کی مشین سے زیادہ گیس وصول کرنا۔ اس مشین کے استعمال سے سوئی گیس کا میٹر بہت تیزی سے چلتا ہے جس سے یہ پتہ چلانا کوئی مشکل کام نہیں ہے جس پر جرمانے کے ساتھ سزا بھی ہوسکتی ہے۔