پاکستان میں شخصیت کو ہمیشہ ہی اہمیت ملتی ہے اور وہ ہیں قائداعظم محمد علی جناح، قائداعظم کو اگرچہ دنیا بھر میں بہترین لیڈر اور انسانیت کا ہمدرد سمجھا جاتا ہے مگر ان کی اہلیہ بھی ان کی تعریف یا کرتی تھیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو قائداعظم محمد علی جناح اور رتن بائی کے بارے میں بتائیں گے۔
دی سینٹرم میڈیا کے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی گئی تھی جس میں قائداعظم محمد علی جناح اور ان کی اہلیہ رتن بائی سے متعلق بتایا گیا۔ تاریخدان ڈاکٹر سعد ایس۔ خان بتاتے ہیں کہ قائداعظم اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے، جبکہ ان کی والدہ کا بہت جلد ہی انتقال ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے ان پر ذمہ داریاں بڑھ گئی تھیں۔ جبکہ والد کا کاروبار بھی کسی وجہ سے بند ہو گیا۔
یہی وجہ تھی کہ ان کی شادی بھی دیر سے ہوئی تھی۔ قائداعظم وکیل بننا چاہتے تھے، اور وکیل بننے میں کافی وقت لگتا ہے۔
جب قائداعظم ممبئی شفٹ ہوئے تو وہاں ایک شخصیت سر ڈنشا پیٹٹ ان کے دوست بن گئے۔ وہ ٹیکسٹائل کے کاروبار سے منسلک تھے۔ سر ڈنشا کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی، جس کا نام انہوں نے رتن بائی رکھا۔
قائداعظم محمد علی جناح سر ڈنشا کے فیملی فرینڈ ہی کی طرح تھے، جنہیں ان کی فیملی میں ایک خاص مقام حاصل رہا۔ رتن بائی کے والدین ان کی شادی کے لیے لڑکا تلاش کر رہے تھے، لیکن رتن بائی کو قائد اعظم اپنے شوہر کے طور پر پسند تھے۔ اگرچہ قائداعظم شروعات میں ایسا کوئی احساس نہیں رکھتے تھے۔
قائداعظم اپنے فیملی فرینڈ سر ڈنشا کی فیملی کے ساتھ کچھ وقت بتا رہے تھے، اسی دوران رتن بائی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں؟ چونکہ قائداعظم ایک سنجیدہ شخصیت کے مالک تھے اسی لیے انہوں نے کہا کہ یہ ایک دلچسپ تجویز ہے۔
اگلے روز قائداعظم نے سر ڈنشا سے پوچھا کہ آپ کا بین الامذہبی شادیوں کے بارے میں کیا خیال ہے، جس پر ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اچھا عمل ہے۔
لیکن سر ڈنشا اور قائداعظم کے درمیان اختلافات اس وقت سامنے آئے جب قائداعظم نے رتن بائی کا ہاتھ سر ڈنشا سے مانگا، جس پر سر ڈنشا نے انکار کر دیا۔ لیکن رتن بائی فیصلہ کر چکی تھیں کہ ان کے شوہر قائداعظم ہی ہوں گے۔
رتن بائی نے اس کانفرنس میں بھی شرکت کی جس میں قائداعظم نے اہم رول نبھایا تھا، وہ کانفرنس لکھنؤ پیکٹ کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے رتن بائی نے والد کو منایا تھا۔
اسی کانفرنس میں قائداعظم کی رتن بائی سے ملاقات ہوئی، رتن بائی نے قائداعظم سے ایک بار پھر شادی کی بات کی جس پر قائداعظم کا کہنا تھا کہ میں ایک مسلمان لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، کیا آپ مسلمان ہوں گی؟
جس پر رتن بائی نے رضامندی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہاں، لیکن قائداعظم نے پہلے رتن بائی کو اسلامی کتابوں کے مطالعہ کا مشورہ دیا اور پھر مطمئن ہو کر اسلام قبول کریں، اس طرح رتن بائی نے اسلام قبول کیا۔
رتن بائی اپنی سہیلی پدماجہ کو کئی خطوط لکھے تھے جن میں سے کچھ میں انہوں نے اپنے شوہر قائداعظم کی تعریف کی ہے۔
رتن بائی اپنی سہیلی پدماجہ کو لکھتی ہیں کہ میں تمہیں بتا نہیں سکتی ہوں، کہ جس طرح کے شوہر جناح ہیں، ایسا کوئی ہو نہیں سکتا۔ میری باقی سہیلیوں کے خاوند بھی اتنا خیال نہیں رکھتے ہیں، جتنا جناح میرا خیال رکھتے ہیں۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رتن بائی قائداعظم سے کتنی محبت کرتی تھیں۔