گھر بنانے کے لیے شوہر نے قرض لیا تھا، مگر شوہر انتقال کر گئے ۔۔ جنرل ضیاء کے پاس جب ایک بیوہ درخواست لے کر آئی تو کیا ہوا؟ جانیے ایک بیوہ کا واقعہ

image

جنرل ضیاء الحق کا شمار پاکستان کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جو کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مشہور ہوئے تھے، جبکہ عوام میں بھی ان کی مقبولیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو جنرل ضیاء الحق سے متعلق بتائیں گے۔

جنرل ضیاء کی زندگی میں ایک بیوہ خاتون کے ساتھ واقعہ پیش آیا تھا جس نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا، وہ بیوہ خاتون اگرچہ مسئلہ لے کر آئی تھی مگر اس مسئلہ کا ذکر جنرل ضیاء نے صدارتی خطاب میں بھی کر دیا تھا۔

جنرل ضیاء کے بیٹے اعجاز الحق کے بنائے گئے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی گئی تھی جس میں انہوں نے ایک ایسی بیوہ اور لاچار و مجبور خاتون کا ذکر کیا جس نے ان سے مدد مانگی تھی۔

جنرل ضیاء کا کہنا تھا کہ مظالم کے ستائے ہوئے لوگ ہر شہر کوچے میں نظر آتے ہیں۔ میں حضور ﷺ کا یہ فرمان یاد کر کے کانپ اٹھتا ہوں، کہ اللہ تعالیٰ اور مظلوم کی فریاد کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا ہے۔

جنرل ضیاء نے دوران خطاب ایک خاتون واقعہ بھی سنایا، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب وہ عوام سے ان کی شکایت بذریعہ خط، ٹیلیفونک گفتگو یا سامنے بیٹھ کر لیتے تھے۔

جنرل ضیاء بتاتے ہیں کہ بیوہ خاتون کا شوہر سرکاری ملازم تھا اور انہوں نے دوران ملازمت ہاؤس بلڈنگ کارپوریشن سے قرضہ لے کر مکان بنوایا۔ اور پھر خود سرکاری مکان میں رہائش اختیار کر کے قرضہ اتارنے کی کوشش کی مگر شوہر کے انتقال کے بعد سرکاری مکان بھی چھن گیا۔

بیوہ کو بچوں سمیت اس مکان میں رہائش اختیار کرنا پڑی جہاں سے کرایہ مل رہا تھا۔ اس طرح آمدنی کا واحد ذریعہ بھی ختم ہو گیا، کرایہ نہ آنے سے مکان بنانے کے لیے جو قرض لیا تھا اس کی قسط بھی ادا نہیں کر سکے جس سے وہ مکان بھی ہاتھ سے چلا گیا۔

بیوہ خاتون کو نوٹس پر نوٹس موصول ہو رہے تھے اور اس صورتحال میں جنرل ضیاء کو وہ برسر اقتدار لوگ یاد آئے جنہوں نے قرضے معاف کرائے تھے۔ جنرل ضیاء نے صدر ہونے کی حیثیت سے اس بیوہ کی مدد کی تھی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US