ٹراوٴٹ مچھلیوں سے مالا مال کشمیر کا دریا موت کی دہلیز پر کیسے پہنچا؟

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سُکھ ناگ دریا سے 15 لاکھ ٹن معدنیات نکالے گئے تو دریا کے ساتھ ساتھ گاؤں کے سبھی چشمے بھی خشک ہو گئے۔
سُکھ ناگ دریا
BBC
'یہ جو آپ دیکھ رہے ہیں، یہ کوئی باغ یا زمین نہیں ہے۔ یہ سُکھ ناگ دریا کی لاش ہے‘

ویسے تو پہاڑوں کے دامن میں بڈگام کے اس گاؤں میں پتھروں کے بڑے ڈھیر اور ان کے بیچوں بیچ اپنے مویشیوں کے ساتھ گزرتے مقامی لوگ ایک خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ لیکن یہ درحقیقت ایک شدید ماحولیاتی بحران کا نتیجہ ہے۔

یہ مقام انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر سے مشرق کی جانب 35 کلومیٹر دُور بڈگام ضلع کے سیل گاؤں ہے جہاں سکھ ناگ دریا واقع ہے۔

یہاں ہمارے ساتھ موجود سماجی کارکن ڈاکٹر راجہ مظفر کہتے ہیں کہ ’یہ جو آپ دیکھ رہے ہیں، یہ کوئی باغ یا زمین نہیں ہے۔ یہ سُکھ ناگ دریا کی لاش ہے۔‘

’یہیں سے شفاف اور میٹھے پانی کی لہریں اُٹھتی تھیں۔ اسی میں عالمی شہرت یافتہ رین بو ٹراؤٹ مچھلیوں کے میلے لگتے تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ دریا کی یہ حالت ’کئی برس تک بے تحاشا مائننگ سے ہوئی ہے۔‘

دراصل حکومت کشمیر میں ایک متوازی شاہراہ ’رِنگ روڑ‘ تعمیر کر رہی ہے اور اس کے لیے درکار ریت، پتھر اور مٹی کے بھاری ذخائر سُکھ ناگ اور دوسری ندیوں سے ہی نکالے گئے۔

کھدائی کے دوران بھاری مشینری کے استعمال اور بے ہنگم ’ریور بیڈ‘ کان کنی نے ضلع بڈگام کی لائف لائن کہلائے جانے والے ’سکھ ناگ‘ کوقریب المرگ پہنچا دیا ہے۔

اس بے تحاشا کان کنی نے ندی کے پانی کی سطح کو خطرناک حد تک گرا دیا جس کے نتیجے میں بڈگام کے قدرتی چشمے خشک ہو چکے ہیں، زراعت تباہ ہو رہی ہے اور مقامی لوگوں کا روزگار چھن گیا ہے۔

سُکھ ناگ دریا
BBC

’راتوں رات 4 ہزار مچھلیاں مر گئیں‘

سکھ ناگ کے پانی پر بڈگام کے سینکڑوں نوجوانوں کے روزگار کا انحصار تھا۔ انہی میں سے ایک رئیس پیرزادہ ہیں جنھوں نے اپنی روزی روٹی کمانے اور خود کفیل ہونے کے لیے سکھ ناگ کے کنارے رینبو ٹراؤٹ مچھلیوں کا ایک فارم قائم کیا تھا۔

ٹراؤٹ مچھلیوں کو زندہ رہنے کے لیے مسلسل بہتے اور صاف پانی کی ضرورت ہوتی ہے، جو انھیں سکھ ناگ سے ملتا تھا۔

لیکن ندی میں حد سے زیادہ کھدائی کی وجہ سے پانی کا رُخ بدل گیا اور سطح گر گئی۔ ایک تباہ کن رات ایسی آئی جب رئیس کے فارم کو سکھ ناگ سے ملنے والی پانی کی سپلائی اچانک بند ہو گئی۔

پانی کی کمی اور آکسیجن کی قلت کے باعث محض ایک ہی رات میں فارم کی 8,000 میں سے 4,000 رینبو ٹراؤٹ مچھلیاں مر گئیں۔

رئیس پیرزادہ اس خوفناک رات کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میں نے اپنی زندگی کی تمام جمع پونجی اس فارم پر لگا دی تھی۔ ایک ہی رات میں میری آدھی مچھلیاں مر گئیں اور میرا کاروبار تباہ ہو گیا۔

’سکھ ناگ کو بچانے کا مطلب صرف ندی کو بچانا نہیں، بلکہ ہم جیسے ہزاروں نوجوانوں کے روزگار کو بچانا ہے جو اب سڑک پر آ چکے ہیں۔‘

سُکھ ناگ دریا
BBC

قدرتی چشموں کا خشک ہونا اور ماحولیاتی اثرات

سکھ ناگ ندی کا پانی صرف سطح پر ہی نہیں بہتا تھا بلکہ یہ بڈگام کے زیرِ زمین واٹر ٹیبل کو بھی برقرار رکھتا تھا۔ ندی کی تہہ یا ’ریور بیڈ‘ کو کھدائی کرنے والی بھاری مشینری کے ذریعے کئی فٹ گہرا کھودنے کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی سطح گر گئی ہے۔

اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ندی کے اردگرد موجود صدیوں پرانے قدرتی چشمے، جو مقامی بستیوں کے لیے پینے کے پانیاور سینچائی کا بنیادی ذریعہ تھے، اب پوری طرح خشک ہو چکے ہیں۔ دیہات میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور خواتین کو پانی لانے کے لیے میلوں دور جانا پڑ رہا ہے۔

بڈگام روایتی طور پر دھان کی کاشت کے لیے مشہور رہا ہے اور سکھ ناگ کا نیٹ ورک یہاں کے کھیتوں کو سیراب کرتا تھا۔ ندی کے خشک ہونے سے زراعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔

مقامی کسان امتیاز علی کے پاس دھان کے وسیع کھیت تھے، جن سے ان کے پورے خاندان کا گزر بسر ہوتا تھا۔ جب سکھ ناگ کا پانی ان کے کھیتوں تک پہنچنا بند ہوا، تو زمین بنجر ہونے لگی۔ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے امتیاز علی مجبور ہو گئے کہ وہ دھان کی کاشت چھوڑ دیں۔

متبادل کے طور پر، امتیاز علی نے اپنے کھیتوں کو سیب کے باغ میں تبدیل کر دیا ہے۔ تاہم، چیلنجز یہاں بھی ختم نہیں ہو پائے۔ امتیاز کہتے ہیں کہ ’ہم نے دھان چھوڑ کر سیب کے درخت تو لگا لیے، لیکن سیب کی فصل کو بھی وقت پر آبپاشی اور کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کے لیے وافر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب سکھ ناگ میں پانی ہی نہیں ہے، تو ہم سیب کے باغوں کو کیسے بچائیں؟ ہماری زمینیں اب بھی پیاسی ہیں۔‘

رئیس پیرزادہ
BBC
رئیس پیرزادہ اس خوفناک رات کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایک ہی رات میں میری آدھی مچھلیاں مر گئیں اور میرا کاروبار تباہ ہو گیا‘

قانونی جنگ اور این جی ٹی کا حکم

سکھ ناگ کی اس سسکتی ہوئی زندگی اور بڈگام کی تباہی کو دیکھ کر مقامی سماجی کارکن ڈاکٹر راجہ مظفر علی خاموش نہ رہ سکے۔ انھوں نے دیہی عوام کو متحرک کیا اور اس ماحولیاتی تباہی کے خلاف ایک طویل قانونی جنگ کا آغاز کیا۔

ڈاکٹر راجہ مظفر اور دیگر مقامی لوگوں نے تحفظ ماحولیات سے متعلق انڈین ادارہ نیشنل گرین ٹریبونلکا دروازہ کھٹکھٹایا۔ انھوں نے عدالت کے سامنے سائنسی شواہد اور مقامی لوگوں کی تباہی کے مناظر پیش کیے، جس میں دکھایا گیا کہ کس طرح بھاری مشینری ندی کے سینے کو چیر رہی ہے۔ سالہا سال کی اس قانونی جدوجہد کے نتیجے میں، نیشنل گرین ٹریبونل نے سکھ ناگ ندی سے معدنیات اور ریت نکالنے پر عارضی پابندی عائد کر دی۔

عدالت نے اپنے احکامات میں واضح کیا کہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ندیوں کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگرچہ یہ پابندی عارضی ہے، لیکن ڈاکٹر راجہ مظفر اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’این جی ٹی کا فیصلہ ہماری جدوجہد کی جیت ہے، لیکن ابھی جنگ باقی ہے۔ عارضی پابندی کے باوجود زمین پر سخت نگرانی کی ضرورت ہے کیونکہ کان کنی مافیا اب بھی چوری چھپے ندی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمیں سکھ ناگ کے تحفظ کے لیے مستقل پالیسی کی ضرورت ہے۔‘

بڈگام کی ’لائف لائن‘ پر منڈلاتا خطرہ

سکھ ناگ کی سست رفتار موت صرف ایک ندی کا خاتمہ نہیں ہے، بلکہ یہ بڈگام کی پوری تہذیب، معیشت اور ماحولیات کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ بڈگام میں تو عبوری پابندی عائد ہے، لیکن کشمیر دیگر اضلاع میں ندیوں سے ریت، بجری اور پتھر نکالنے کا یہ سلسلہ سائنسی اصولوں کے بغیرجاری ہے۔ ڈاکٹر راجہ مظفر کہتے ہیں کہ ’کشمیر کے دیگر اضلاع بھی بڈگام جیسی صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔‘

ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ ندیوں کی کھدائی کے لیے بھاری مشینری کے استعمال پر مستقل پابندی ہونی چاہیے اور صرف دستی طور پر روایتی طریقوں سے ہی محدود کان کنی کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ ندی کا قدرتی نظام برقرار رہے۔ ڈاکٹر مظفر کا کہنا ہے کہ ’رئیس پیرزادہ کی مری ہوئی مچھلیاں اور امتیاز علی کے پیاسے سیب کے باغات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ اگر ہم نے اب بھی قدرت کے اس انمول تحفے کی قدر نہ کی، تو آنے والی نسلیں پانی کی ایک ایک بوند کو ترسیں گی اور بڈگام کی یہ لائف لائن ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔‘

سُکھ ناگ دریا
BBC

موسمیاتی تبدیلی کے بیچ خطرناک کان کنی

کشمیر میں سکھ ناگ اور دیگر ندی نالوں میں یہ بے تحاشا کان کنی ایسے وقت ہو رہی ہے، جب دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح کشمیر بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے لڑ رہا ہے۔

گذشتہ ماہ انڈین ادارہ ’کامپٹرولر ایند آڈیٹر جنرل‘ یا سی اے جی نے ایک طویل رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ گذشتہ 59 برسوں کے دوران کشمیر کی کُل جھیلوں میں سے 74 فی صد یا تو مکمل طور پر نابود ہوچکی ہیں ، یا بڑے پیمانے پر سُکڑ گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان میں سے 315 جھیلیں ایسی ہیں، جہاں اب سڑکیں یا بستیاں آباد ہیں۔ سی اے جی کا کہنا ہے کہ وادی میں ڈیڑھ ہزار ہیکٹر سے زیادہ آبی رقبہ خشک ہوچکا ہے۔

واضح رہے 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے ہی کشمیر میں ندی نالوں اور دریاؤں کی کان کنی کا بے تحاشا سلسلہ شروع ہوا، اور کان کنی کرنے کا ٹھیکہ لینے والی کمپنیوں میں اکثریت غیرمقامی کمپنیوں کی ہے، جو ہریانہ، پنجاب اور دیگر ریاستوں سے یہاں آکر کان کنی کرتی ہیں۔

حکمران نیشنل کانفرنس اور حزب اختلاف کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین اسمبلی نے کئی مرتبہ کان کنی کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرّہ کہتے ہیں ’جہلم اور اس کی معاون ندیوں دُودھ گنگا، شالی گنگا اور سُکھ ناگ میں کان کنی کے 70 فی صد ٹھیکے غیر کشمیریوں کو دیے گئے ہیں جو قانونی ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر نہایت بے دردی سے آبی وسائل کو لوٹ رہے ہیں۔‘

ڈاکٹر راجہ مظفر کے مطابق صرف سُکھ ناگ سے ہی اڑھائی برس کے دوران 15 لاکھ ٹن مٹیرئیل نکالا گیا۔ ’جتنی ریت، بولڈر، بجری اور مٹی یہاں کے لوگ پچاس سال تک نکالتے وہ سب اڑھائی برس کے دوران نکالا گیا اور بڈگام کو سنگین ماحولیاتی خطرے میں دھکیل دیا گیا۔‘

سُکھ ناگ دریا
BBC

’جہاں روکنے کا حکم ملتا ہے، ہم روکتے ہیں‘

اس بے ہنگم کان کنی کے بارے میں متعلقہ محکمہ جیالوجی اینڈ مائننگ کا موقف خاصا مبہم ہے۔ ڈسٹرکٹ مائننگ آفیسر ندیم احمد بٹ نے بی بی سی کو بتایا: ’جونھی ہمیں حکم ملا کہ یہاں بند کرو، ہم نے کیا۔ جہاں بھی روکنے کا حکم ملتا ہے، ہم فوراً روکتے ہیں۔‘

بعض رضاکاروں نے گزشتہ برس انڈیا کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں کان کنی کے دوران برتی گئی بے ضابطگیوں کے خلاف عرضی داخل کیتھی۔ اس پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے کان کنی سے ماحولیات پر پڑنے والے اثرات کی نگرانی کرنے والے ادارہ ’اینوائرمینٹل امپیکٹ ایسسمنٹ اتھارٹی‘ کو عدالت میں آڑے ہاتھوں لیا اور حکم جاری کردیا کہ کان کنی کے ٹھیکے دینے کے عمل کو فوراً شفاف بنایا جائے۔

عدالتی اور ادارہ جاتی سطح پر ان مثبت مداخلتوں کے باوجود کشمیر کے کئی اضلاع میں کان کنی کا عمل جاری ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US