وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی یومِ آبادی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان آج دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ مل کر آبادی کی پائیدار ترقی، خوشحالی اور ذمہ دارانہ منصوبہ بندی کے عزم کی تجدید کر رہا ہے، جبکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آبادی کی دانشمندانہ منصوبہ بندی، وسائل کے مؤثر استعمال اور عوام کو بنیادی سہولیات کی منصفانہ فراہمی ہی ایک فلاحی معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال عالمی یومِ آبادی کا موضوع نوجوانوں کی امیدوں اور امنگوں کو آج اور مستقبل میں حقیقت بنانا ہے، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ خوشحال مستقبل کی تعمیر میں نوجوان کلیدی کردار رکھتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور ملکی آبادی کا 65 فیصد سے زائد حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جو قومی ترقی کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ تاہم آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافہ تعلیم، صحت، روزگار، رہائش، غذائی تحفظ، بنیادی ڈھانچے اور ماحولیاتی پائیداری سمیت مختلف شعبوں میں اہم چیلنجز بھی پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری اور جامع قومی حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت نے قومی کونسل برائے آبادی قائم کی ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان پالیسی ہم آہنگی، قومی آبادی پروگرام پر مؤثر عملدرآمد اور بروقت فیصلہ سازی کو یقینی بنائے گی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانا، انسانی وسائل کی ترقی، آبادی سے متعلق امور کو قومی ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ بنانا اور طویل المدتی سماجی و معاشی خوشحالی کا حصول حکومت کی اہم ترجیحات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام سمیت مختلف قومی اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کو باصلاحیت، ذمہ دار اور بااختیار شہری بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خواتین، بچیوں اور معاشرے کے کمزور طبقات کو تعلیم، صحت، معاشی شمولیت اور مساوی مواقع کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح بنائے ہوئے ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، اراکین پارلیمان، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی، جامعات، نجی شعبے، علمائے کرام، ذرائع ابلاغ اور مقامی برادریوں پر زور دیا کہ وہ آبادی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے، ذمہ دارانہ منصوبہ بندی، صنفی مساوات اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔
انہوں نے اظہارِ امید کیا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے پاکستان اپنی آبادیاتی صلاحیت کو قومی طاقت میں تبدیل کرتے ہوئے موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔