بیماری یہ نہیں دیکھتی کہ کون بڑا ہے یا کون چھوٹا، جس کو اسے لگنا ہوتا ہے وار کر دیتی ہے۔
اس وقت اسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں جہاں طرح طرح کی بیماریوں کا انہیں سامنا ہے۔ وہیں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بھی موذی بیماریوں میں مبتلا ہیں جن کے والدین ان کے سرہانے بیٹھ کر ان کی صحت کے لے رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر ایک بیمار بچے کی پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جو اسپتال میں اپنی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔
مذکورہ بچے کا نام ارسلان ہے جو گُردے کی بیماری سے گزر رہا ہے اور اس کی حالت اس وقت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ ارسلان کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ گزشتہ دو روز سے چیل جنرل ہسپتال کراچی میں وینٹی لیٹر پر ہے۔
تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ننھے ارسلان کے منہ پر آکسیجن ماسک نصب ہے۔ والدین نے اپنے بچے کی مدد کے لیے اپیل بھی کی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین ارسلان نامی بچے کی صحت یابی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں اور اس کی پوسٹ کو متحرک سوشل میڈیا پیجز میں شئیر کر رہے ہیں تاکہ لوگ کسی طرح بچے کی مدد کر سکیں۔