نور مقدم کا بے دردی سے قتل کرنے والا ملزم ظاہر جعفر آج عدالت میں پیش ہوا۔ لیکن انداز کچھ انوکھا تھا۔ اس کو کرسیوں سے باندھ کر عدالت میں لے جایا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے۔
جس پر لوگ کمنٹ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ کوئی ڈرامہ تو نہیں کر رہا اور اگر یہ حقیقت ہے تو اچھا ہے اس کا جُرم اتنا بڑا اور ظالمانہ ہے، اس کو ایسی ہی موت ملنی چاہیے۔
واضح رہے کہ 2 روز قبل نور مقدم کے والد نے ملزم ظاہر کو سزائے موت دینے کی اپیل کی تھی۔
دورانِ سماعت
جونیئر وکیل نے کورونا وائرس کے باعث ملزم کے وکیل ذوالقرنین سکندر کی عدم موجودگی میں سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تو جج نے ریمارکس دیے کہ سٹیٹ کونسل معاونت کرتا ہے نہ کہ رکاوٹ پیدا کرتا ہے؟
اس پر جونیئر وکیل نے کہا کہ ذوالقرنین سکندر وڈیو لنک کے ذریعے شوکت مقدم پر جرح کر لیں گے۔
ویڈیو لنک سے جرح کے دوران شوکت مقدم نے بتایا کہ ’جب 19 جولائی کو وہ گھر سے نکلے تو سمجھے نورمقدم گھر پر ہیں۔
’میری بیٹی سارہ 35 ، بیٹا محمد علی 33 اور نور 27 عمر کی تھیں اور بیوی کا نام کوثر ہے۔ نور مقدم نے کال کی اور بتایا کہ وہ دوستوں کے ساتھ لاہور جا رہی ہیں۔‘
شوکت مقدم نے مزید بتایا کہ وہ اس سے پہلے بھی دو تین دفعہ ایسا کر چکی ہیں لیکن پہنچ کر بتا دیتی تھیں۔
’لاہور جانے سے متعلق تصدیق کے لیے ان کے دوستوں سے بات چیت کی تھی۔ نور کے لاپتہ ہونے سے متعلق پولیس کو میں نے رپورٹ نہیں کروائی۔‘
شوکت مقدم نے کہا کہ نور کو ظاہر کے گھر جانے سے کبھی منع کیا اور نہ ہی ظاہر کے والدین کو اس حوالے سے کبھی کچھ کہا۔
اس موقعے پر وکیل ذوالقرنین سکندر نے کہا کہ وہ ان سے کچھ سخت سوالات کریں گے لہٰذا وہ غصہ نہ ہوں۔
انہوں نے پوچھا کہ ’آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سفارت کار رہے، کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس طرح کا تعلق رکھا جا سکتا ہے؟
اس پر شوکت مقدم نے جواب دیا کہ یہ قابل قبول ہے کیونکہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے 20٫25 سال کی عمر کے بچے اکٹھے اٹھتے بیٹھتے ہیں۔
سماعت کے دوران جج نے استفسار کیا کہ مرکزی ملزم کہاں ہے، جس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ صبح سے 3 دفعہ کہہ چکا ہوں پولیس ملزم کو پیش نہیں کر رہی۔
پولیس کی گاڑی سے کمرہ عدالت تک ملزم کو کرسی پر بٹھا کر لایا گیا۔
کمرہ عدالت میں 10 منٹ کی پیشی کے دوران ملزم مبینہ طور پر منہ سے عجیب آوازیں نکالتے رہے۔
ایسے میں ملزم کے وکلا نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ’ہم نے پہلے ہی بتایا تھا کہ ظاہر جعفر کی دماغی حالت بہت خراب ہے لیکن کوئی میڈیکل نہیں کرایا جا رہا۔‘
اس پر جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جیل انتظامیہ کو ملزم کے طبی معائنے کے لیے خط لکھ رکھا ہے۔ اور 20 جنوری تک سماعت ملتوی کر دی گئی۔