پیدائشی طور پر انسان اپنے ساتھ کچھ چیزیں اپنے ساتھ لے کر آتا ہے جس پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ لیکن وقت کے ساتھ کئی چیزوں میں رد و بدل پیدا ہوتا رہتا ہے۔ ایسی ایک ٹرانس جینڈر خاتون مایا زمان کی کہانی ہے جنہوں نے اپنی جنس کے لیے اتنی محنت کی، اتنا کچھ سہا جو قابلِ تعریف ہیں۔
مایا زمان کچھ روز قبل ماریہ میمن کے پاڈکاسٹ شو میں بطورِ مہمان آئیں تھیں۔ جہاں ماریہ میمن نے ان سے ان کی زندگی کے متعلق کچھ سوالات کیے۔ وہ سوالات یقیناً مشکل تھے اور شاید ہمیں بھی بحیثیتِ معاشرہ یہ سمجھنا چاہیے کہ کس شخص سے کس طرح بات کرنی چاہیے؟ کون کس وقت کس طرح اور کن حالات سے گزرا ہے ذرا اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
ہر انسان کی ایک ذاتی حیثیت ہے۔ جسے ہمیں قبول کرنا چاہیے۔ عزت کا حق دار صرف وہ نہیں جو بڑا ہے بلکہ عزت کا حق دار وہ بھی ہے جو معصوم ہے۔ اپنی اصلاح کریں گے تو معاشرے کی اصلاح میں آسانیاں ہوں گی۔
مایا زمان نے اپنی زندگی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ:''
جب میں پیدا ہوئی تو لڑکا تھی۔ لیکن جب میں 6 یا 7 سال کی تھی تو مجھ میں لڑکیوں جیسی پسند خود بخود سامنے آئی، مجھے گڑیا سے کھیلنا اور میک اپ کرنا اچھا لگتا تھا۔ مجھے میرے رشتے دار اور قریبی لوگ بولتے تھے کہ تمہاری عمر کے لوگ تو کرکٹ اور فُٹ بال کھیلتے ہیں۔ جبکہ مجھے وہ گیمز کھیلنا نہیں پسند تھا۔ مجھے گُڑیا گُڑیا کھیلنا اچھا لگتا تھا۔
''
زندگی میں نیا موڑ اس وقت آیا جب:
''
میں نے 20 سال کی عمر میں اپنے والد کو کھو دیا۔ اس کے بعد 22 سال کی عمر سے میں نے خود کو اپنی مرضی کی جنس کے مطابق ڈھالا۔ جس کے لیے میں نے بہت محنت کی۔ مجھے اچھا نہیں لگتا تھا 2 کشتیوں میں سوار ہونا۔ میں نے آگے بڑھ کر اپنے گھر والوں کو بھی سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن دیسی فیملیز میں ایسا بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ اس بات کو سمجھیں۔ میرے گھر والوں کو اس بات کا تو پتہ تھا کہ میں ایک خواجہ سرا ہوں۔ لیکن مجھ میں خواتین والی خصوصیات خود بخود آئیں۔ میں نے اپنے جذبات کو سمجھا۔ میری آواز لڑکیوں میں ملتی تھی اس لیے میں اسکول کے کسی پروگرام میں حصہ بھی نہیں لیتی تھی۔ میرے گھر والوں نے میری مخالفت بھی کی۔ لیکن پھر قبول بھی کرلیا۔
''
سپورٹ کس نے کیا؟
مجھے میرے بھائی اور بہنوں نے بہت سپورٹ کیا۔ میری مدد کی۔ میرا بھائی اچھا پڑھا لکھا بندہ ہے وہ باہر سے پڑھا ہے۔ اس نے کہا ہاں ہوتے ہیں ایسے لوگ اور ایسی ٹرانس جینڈر خواتین۔ اس کے بعد 22 سال کی عمر سے میں نے ایسی دوائیاں استعمال کرنی شروع کیں۔ میرا ہارمونل ٹریٹمنٹ بھی ہوا اور اب آہستہ آہستہ وہ اپنے اختتام کو ہے۔ اب میری ماں کہتی ہے کہ ہاں جب تم پید اہونے والے تھے تو مجھے لگتا تھا کہ لڑکی کی پیدائش ہوگی۔ جس پر میں یہی کہتی ہوں کہ مجھے اب قبول کرلیں آپ بیٹی کے روپ میں۔ ''
گھر والوں کے علاوہ کس نے مدد کی؟
مایا بتاتی ہیں کہ:
''
گھر والوں کے علاوہ میری مدد سب سے زیادہ انٹرنیٹ نے کی ہے۔ اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ مجھے کب کیا اور کونسا ٹریٹمنٹ لینا ہے؟ کیسے خود کو ڈھالنا ہے۔ یہ میری ایک بڑی جیت ہے کہ اب مجھے خود کو عورت کہلوانے میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ آج تک لوگوں کو سنبھالنا مشکل ہوتا تھا لیکن اب نہیں ہوگا۔''