“ارے بھئی اتنی دور تھا قبرستان میں تو چل چل کر ہانپ گیا۔ اتنی بھوک لگ رہی ہے اور انھوں نے یہ پیلے چاول لا کر رکھ دیے۔ او بیٹا عمیر زرا بوٹیاں لا کے دے“
مسلسل بولتے ہوئے سلطان صاحب نے عمیر کو بریانی میں بوٹیاں لانے کا آرڈر دیا۔ 14 سالہ عمیر جو اچانک یتیم ہونے کی وجہ سے گم صم بیٹھا تھا۔ اپنے سگے چاچو کی بے حسی پر ان کی شکل دیکھنے لگا۔
صرف سلطان چاچو ہی نہیں۔ عمیر ایک بار جو انھیں بوٹیاں دینے اٹھا تو پھر مہمانوں کے جانے کے بعد تک اسے بیٹھنا نصیب نہیں ہوا۔ میت کے گھر کھانا کھانے آئے لوگوں نے کبھی گھر والوں سے چممچ منگوائے کبھی پلیٹیں اور کسی نے تو روٹی کے ٹھنڈے ہونے کا شکوہ بھی کردیا۔
میت والا گھر اور معاشرتی بے حسی
یہ منظر کسی ایک گھر کا نہیں بلکہ ہر اس بدنصیب گھر میں نظر آتا ہے جہاں کسی کا پیارا ہمیشہ کے لئے رخصت ہوجاتا ہے۔ ایسے سخت لمحوں میں لوگ گھر والوں کی دل جوئی کرنے کے ان پر کھانے کا بوجھ بھی لاد دیتے ہیں جو اس معاشرتی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اسلام ہمیں غمزدہ لوگوں کی دل جوئی سکھاتا ہے
جبکہ مذہب اسلام ایسے لوگوں کی دل جوئی کا حکم دیتا ہے جو دل گرفتہ ہوں۔ ہونا تو یہ چاہئیے کہ میت والے گھر کے لوگوں کا غم بانٹ کر انھیں کھانا کھلایا جائے کیونکہ اس وقت ان کا دل کھانے کی طرف مائل نہیں ہوتا لیکن الٹا رشتے دار اور آس پڑوس والے کھانے کی فرمائشیں اسے کرتے ہیں جیسے کسی دعوت میں آئے ہوں۔ آئیے عہد کریں کہ خدانخواستہ کسی گھر پر ایسی افتاد آپڑے تو فرمائشیں کرکے ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے ان کے دکھ بانٹیں گے تاکہ انھیں زندگی کی جانب مائل کرسکیں۔