ہر وقت چیخنے چلانے والی ساس یا پھر پیار کرنے والی ۔۔ ساسوں کی کچھ ایسی چٹ پٹی باتیں جو ہر گھر میں ہوتی ہیں

image
ہندوستانی اور پاکستانی معاشرے میں ساسوں پر بہت بات کی جاتی ہے،ہماری سوسائٹی میں ساس بہو کے بہت مخصوص رویے سامنے آتے ہیں۔عام طور پر ہمارے ذہنوں میں ساسوں کا جو خاکہ آتا ہے وہ،چیختی چلاتی،طنز کے تیر چلاتی،بہوؤں کا جینا حرام کرتی خواتین ہی آتی ہیں۔ بہت کم گھرانوں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاں ساسیں اپنی بہوؤں کو بیٹی کا درجہ دے کر ان کا خیال رکھیں۔لیکن ایسا بھی نہیں کہ ساسوں کی ایسی نسل ناپید ہے۔

اچھی اور بری دونوں طرح کی ساسیں موجود ہیں،بلکہ بری تو نہیں کہنا چاہیے بس کچھ ساسوں کو لگتا ہے کہ کہیں ان کی بہوئیں ان کے بیٹے اور ان کے گھر پر قبضہ نہ کرلیں ،عدم تحفظ کا یہ احساس ان کو برا کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ کیا ایسی باتیں ہیں جو ہر ساس اپنی بہو سے کہتی ہے یا ہر ساس کو اپنی بہو کی ان ہی باتوں پر اعتراض ہوتا ہے۔

صبح اٹھنے پر اعتراض:

عام طور پر ساسوں کا پہلا اعتراض اپنی بہوؤں کے دیر سے اٹھنے پر ہوتا ہے۔ وہ بالکل پسند نہیں کرتی کہ ان کی بہو دن چڑھے تک سوتی رہے۔ دیر سے اٹھنے والی بہوئیں عموماً اپنی ساسوں کے عتاب کا نشانہ بنتی ہیں۔

گھر کے کاموں میں دلچسپی نہ لینا:

گھر بنانا بڑا مشکل کام ہے،تنکا تنکا کر کے آشیانہ بنتا ہے، ساسوں کو اکثر اپنی بہوؤں سے یہ بھی شکایت ہوتی ہے کہ وہ گھر کو گھر نہیں سمجھتیں بلکہ غیرذمہ دارانہ رویہ اپناتی ہیں، گھر کے کاموں میں دلچسپی نہیں لیتیں۔ بس کھانا پینا اور موج اڑانا۔ یہ اکثر نئی بہوؤں کا رویہ نظر آتا ہے جس سے گھر میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔

کھانا پکانے میں اپنی ساس سے مشورہ نہ کرنا:

ایک اور بہت سخت اعتراض جو ساسوں کو ہوتا ہے وہ یہ کہ کھانا پکانے میں بہوئیں ان سے مشورہ نہیں کرتیں ان کی بتائی گئی ریسیپی سے نہیں پکاتیں جو ان کو ناگوار لگتا ہے۔

راتوں کو دیر تک باہر گھومنا:

پرانے زمانے کے لوگ اس بات کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے کہ گھر کے افراد رات گئے تک باہر پھریں۔خاص کر گھر کی بہو،یہ وہ اعتراض ہے جو اکثر ساسوں کو ہوتا ہے۔

میکے زیادہ جانا:

ساسوں کی ایک بات پر زیادہ تیوریاں چڑھتی ہیں کہ بہوئیں ہر دوسرے دن دوڑ دوڑ کر میکے جائیں۔ یہ عادت بھی گھر میں لڑائی کا باعث بنتی ہے۔

میکے والوں کی بے جا مداخلت:

اس بات سے بھی ساس صاحبہ کو غصہ آتا ہے کہ بہو سسرال کی ہر بات میکے میں جا کر کہہ دے اور میکے والے ہر معاملے میں ٹانگ اڑائیں۔

بچوں کا خیال نہ رکھنا:

ہر دادی کو اپنے پوتا،پوتیوں سے بہت محبت ہوتی ہے، ان کے کام میں کسی قسم کی بھی کوتاہی ہو تو ساسوں کو اچھا نہیں لگتا۔اور وہ اپنی بہوؤں کو ٹھیک ٹھاک باتیں سنا دیتی ہیں۔

اپنی بیٹیوں کی باتوں میں آکر بہو کو باتیں سنانا:

بعض نندیں اپنی بھابھیوں کو ہنستا کھیلتا دیکھ کر کر حسد کا شکار ہو جاتی ہیں اور وہ اپنی ماں کو بھڑکا کر گھرکا ماحول خراب کرتی ہیں۔

تعاون

یہ چند وہ باتیں ہیں جو تقریباً ہر گھرمیں نظرآتی ہیں، ان مسائل کے باعث گھر کا ماحول کشیدہ ہوتا ہے اور لڑائیاں ہوتی ہیں حالانکہ یہ کوئی اتنے بڑے مسئلے نہیں ہیں کہ ان پر قابو نہ پایا جاسکے،ذرا سی قربانی اور ذرا سے تعاون سے گھر کا ماحول خوشگوار اور ہلکا پھلکا ہو سکتا ہے۔

پیار کرنے والی ساس

٭ ہر کسی کو پیار اور محبت کرنے والی ساس پسند ہوتی ہے۔ ہم جہاں روزانہ کی بنیاد پر ظالم ساسوں کی باتیں سنتے ہیں وہیں کچھ ایسی ساسیں بھی ہوتی ہیں جو اپنی بہوؤں کا خیال بیٹیوں سے زیادہ کرتی ہیں، ان کی ہر ضرورت کا خیال کرتی ہیں، ان کو سمجھتی ہیں۔ ایسی ساس ہر کسی کی نہیں ہوتی مگر کم ہی خوش نصیب خواتین ہیں جن کو محبت کرنے والی ساس ملتی ہیں۔

آپ کی ساس کیسی ہیں؟ ہمیں کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US