سوشل میڈیا پر ایسی کئی پوسٹ دیکھی ہوں گی جس میں سماج کی مختلف کہانیاں موجود ہوتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
سوشل میڈیا پر ایک تصویر کافی وائرل ہے جس میں ایک شخص کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ شخص ایک والد ہے، ایک بیٹا ہے اور ایک مرد ہے جو کہ اپنے گھر کی خاطر در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔
دراصل یہ شخص جوکر پر بن کر سڑکوں پر اسی امید سے نکلتا ہے کہ کوئی مدد کر دے گا، دراصل یہ نوجوان مہنگائی کے اس دور میں مشکلات صورتحال میں پس چکا ہے اور اب ایک اور آخری امید کو ٹوٹنے نہیں دے رہا ہے۔ چہرے پر جوکر والی مسکراہٹ اور جوکر جیسا انداز اپنا کر یہ شخص دو وقت کی روٹی اپنے بچوں کو کھلانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ شخص اپنے ساتھ ایک بینر بھی لیے رکھتا ہے، اس بینر پر اس شخص نے اپنے ساتھ ہونے والا واقعہ اور مدد کی اپیل لکھی ہے۔
جوکر بنے اس شخص کا کہنا ہے کہ ایک حادثے اور کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے میں قرضوں میں ڈوب گیا ہوں۔ مجھے ہنر کوئی آتا نہیں ہے اسی لیے میں جوکر بن گیا ہوں۔ میرے 6 بچے ہیں، چوری فراڈ کر نہیں سکتا ہوں۔ اسی لیے خدا کے لیے میری مدد کریں"۔
یہ شخص اپنے بچوں کی خاطر اس حد تک مجبور ہے کہ اب جو مدد بھی میسر ہو اس سے انکار نہیں کر رہا ہے۔ ایک اچھی بات یہ ہے کہ اس مشکل وقت میں بھی یہ شخص کسی غلط کام کا سوچ نہیں سکتا ہے۔
لاک ڈاؤن نے جہاں دنیا کو تبدیل کر دیا ہے وہیں بہت سے گھروں کے چولہے بھی بجھ چکے ہیں۔ ایسے میں بہت سے فیملیز جہاں باآسانی اپنا گھر چلا سکتی تھیں آج بمشکل دو وقت کی روٹی کھا پا رہی ہیں۔