سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز دیکھی ہوں گی جس میں ڈکیتی کی وارداتوں کے حوالے سے معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو گلشن اقبال میں ہونے والی ایک ڈکیتی کے بارے میں بتائیں گے۔
کراچی میں رواں سال ڈکیتی کی وارداتوں میں اس حد تک تیزی آئی ہے کہ تعداد 11 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ عام طور پر شہر میں ڈکیتی کے دوران شہریوں کو سنسان علاقوں میں لوٹا جاتا ہے۔
مگر کراچی میں چلتی سڑک اور ٹریفک جام میں بھی لوٹنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
کورنگی کراسنگ پر ٹریفک جام کے دوران کئی شہری قیمتی اشیاء اور نقدی سے محروم ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے چائے کے ہوٹل پر بھی شہری موبائل فونز اور نقدی سے محروم ہوئے۔ ملزمان آدھے گھنٹے تک شہریوں کو لوٹتے رہے تھے۔
اب گلشن اقبال کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں ڈکیت گلشن اقبال بلاک 13 میں مسجد اقصیٰ کے قریب ڈکیتی کی غرض سے آئے تھے، راہ چلتے شہری کو دیکھ کر وہیں رکے اور لوٹنے لگے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پیچھے سے آنے والے ڈکیتوں نے پہلے اتر کر اسلحہ نکالا اور پھر شہری کے پاس گئے۔
بزرگ شہری نے سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ کھول کر تلاشی دی، شہری بے خوف ہو کر تلاشی دے رہا تھا۔ ہاتھ بھی ایسے کھولے جیسے کہ گلے لگانے جا رہا ہو۔
لیکن جب ڈاکوؤں کو شہری کے پاس سے کچھ نہ ملے تو مایوس ہو کر واپس بائیک پر بیٹھنے لگے۔ اسی دوران شہری نے دلچسپ انداز میں ڈکیتوں کو ٹاٹا بائی بائی بھی کیا، اس انداز نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کی اور ایک نئی سیکھ بھی ملی کہ جب بھی گھر سے نکلیں تو زیادہ تر چیزیں ساتھ نہ لے کر نکلیں۔