“2 مہینوں سے اسکول کی فیس نہیں بھری تھی تو امی نے اپنی بالیاں بیچ کر فیس ادا کی تھی تبھی میں نے سوچ لیا تھا کہ جیسے ہی نوکری ملے گی سب سے پہلے اپنی ماں کے کانوں کے لئے بالیاں خریدوں گا"
یہ الفاظ ایک ایسے بیٹے کے ہیں جس نے اپنی ماں کی قربانیوں کی لاج رکھی اور اس کا درد محسوس کرکے کچھ کر دکھانے کی ٹھانی۔ اس بیٹے کا نام اسامہ شہریار ہے۔ دیوا میگزین کے مطابق یہ نوجوان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں بچپن کا واقعہ سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ “جب ماں نے بالیاں بیچیں تو میرا خود سے عہد تھا کہ اپنی ماں کو بالیاں ضرور دلاؤں گا۔ میرا خود سے یہ وعدہ میرے دل کے بہت قریب تھا اور 10 سال بعد جیسے ہی مجھے بینک میں افسر کی نوکری ملی میں نے وہ وعدہ پورا کیا“
اسامہ نے اہنی والدہ اور اس بالی کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہیں جو انھوں نے اپنی امی کو تحفے میں دی ہیں۔ اس وقت سوشل میڈیا پر اسامہ کی پوسٹ اور تصاویر تیزی سے وائرل ہورہی ہیں اور لوگ انھیں خوب سراہ رہے ہیں۔
ماں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں
اسامہ اپنی والدہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “میری ماں ایک بہترین خاتون ہیں جنھوں نے ہمارے لئے سب کچھ کیا۔ شکریہ امی جی ہر چیز کے لئے“
اسامہ اپنی والدہ کے حوالے سے دعاگو ہو کر مزید کہتے ہیں کہ “اے اللہ مجھے اپنی امی کی خدمت کرنے کا موقع اور وسیلہ دے۔ آمین“
ایسے والدین اور بچے قوم کا اثاثہ ہیں
بے شک اسامہ شہریار جیسے نوجوان اس ملک اثاثہ ہیں جو اپنے والدین کی قربانیوں کی قدر کرکے معاشرے میں ایک قابل اور ذمہ دار نوجوان کے طور پر ابھرتے ہیں۔ ایسی مائیں بھی ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں جو اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرکے قوم کو مضبوط بنیاد دیتی ہیں۔