"ایک پیر نے کہا تھا کہ جب میں مرجاؤں تو حاملہ عورت ہر ہفتے میری قبر پر آکر حاضری دے ورنہ قیامت تک اس گاؤں میں ایک اور دو انگلیوں والے بچے پیدا ہوتے رہیں گے"
یہ من گھڑت کہانی جتنی چونکا دینے والی ہے اس سے زیادہ یہ حقیقت حیران کن ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا گاؤں موجود ہے جہاں رہنے والی 80 فیصد آبادی کے ہاتھوں اور پیروں میں ایک یا دو انگلیاں ہی ہوتی ہیں۔ آئیے اس گاؤں کے بارے میں مزید جانتے ہیں۔
یہ گاؤں صوبہ سندھ میں شکارپور سے آگے ہے اور ایک یا دو انگلیوں والے افراد کے نام سے ہی مشہور ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں رہنے والے عورتوں، بچوں اور مردوں سمیت 160 افراد کے ہاتھوں اور پیروں میں ایک یا دو انگلیاں پائی جاتی ہیں۔
اس گاؤں میں رہنے والے اعجاز احمد کہتے ہیں کہ ہم معذور ہیں کوئی کام نہیں کرسکتے کوئی سامان اٹھانا ہو تو کسی دوسرے کے محتاج ہوتے ہیں۔ اعجاز احمد کہتے ہیں ان کے چار بچے ہیں جن میں سے 3 بیٹیاں ان کی طرح معذور ہیں جبکہ بیٹا ٹھیک ہے۔
انیسہ پہنوار کہتی ہیں کہ انھیں کام کرنے میں اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ وہ سالن روٹی بھی نہیں پکا سکتیں۔ گاؤں کے بچے یہ کہہ کر اسکول نہیں جاتے کہ ایک اور دو انگلی سے انھیں قلم پکڑنے میں مشکل ہوتی ہے۔
اس گاؤں کا روزگار کھیتی باڑی پر چلتا ہے لیکن لوگ یہ کام نہیں کرسکتے کیونکہ نہ ان کے ہاتھ بوجھ اٹھانے کے قابل ہیں نہ ہی وہ پیر سے ٹھیک طرح کھڑے ہوسکتے ہیں۔ گاؤں کے بڑوں کا کہنا ہے یہ بیماری پچھلی تین سے چار نسلوں سے ان کا پیچھا کررہی ہے
جہاں گاؤں کے کچھ لوگ من گھڑت کہانیپر یقین کرتے ہیں وہیں ڈاکٹر سجاد مہر(آرتھوپیڈک فزیشن) کہتے ہیں کہ یہ بیماری جینیاتی مسائل کی وجہ سے نسل در نسل منتقل ہوتی ہے کیونکہ اندرون سندھ میں خاندان سے باہر شادی کرنے کا رواج بہت کم ہے لہذا لوگوں کو اس حوالے سے تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔