نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ آنے کے بعد جہاں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں نور کو یاد بھی کیا جا رہا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو نور مقدم کے بارے میں بتائیں گے۔
نور مقدم اور ظاہر جعفر کی فیملیز آپس میں فیملی فرینڈز کی حیثیت رکھتے تھے، لیکن ان کی دوستی کیسے دشمنی میں تبدیل ہو گئی، اس نے سب کی توجہ حاصل کر لی، تصاویر بی بی سی کی جانب حاصل کی گئی تھیں۔
نور بچپن ہی سے سب کی توجہ حاصل کرنے والی بچی تھی، اپنے بچپن میں جب وہ ہسنتی تھی تو سنجیدہ چہروں کو بھی ہنسنے پر مجبور کر دیتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ نور کی کمی آج بھی والدین اور بہن شدت سے محسوس کر رہی ہیں۔ نور کی والدہ بتاتی ہیں کہ سارہ مقدم کہتی ہے کہ ماما ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا کہ ہم ایک اسٹار کے ساتھ رہ رہے ہیں۔
چونکہ نور کے والد سفارت کار رہ چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی مختلف ممالک میں پوسٹنگ ہوا کرتی تھی جس کی وجہ سے والد نور کی لمحہ با لمحہ تصاویر بناتے تھے، اسلام آباد میں جب نور کی یاد میں تصاویر اور ویڈیوز دکھائی جا رہی تھیں تو والد کی آنکھوں میں آنسوں تھے اور والدہ کو نورکی بہن کا سہارا۔ کیونکہ ان خوبصورت لمحات کو جب فیملی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی تھی تو افسردہ ہو گئی تھی۔
نور گھر میں سب سے چھوٹی تھی یہی وجہ تھی کہ سب کی لاڈلی بھی تھی، والدہ بتاتی ہیں کہ وہ حج بھی کر کے آئی تھی اور حجاب کرنا شروع کر دیا تھا، کئی ماہ تک وہ حجاب کرتی رہی پھر اچانک اسلام آباد آ کر اسے عجیب محسوس ہونے لگا۔ والدہ کا کہنا تھا کہ ہم نے حجاب لینے یا نہ لینے پر بیٹی کو کبھی نہیں ٹوکا۔
نور مقدم کے والدین اس لیے بھی بیٹی پر فخر کرتے تھے کہ وہ دنیاوی زندگی کے ساتھ مذہبی لگاؤ بھی رکھتی تھی، والد بتاتے ہیں کہ نور نے خود اللہ کے ننانوے نام لکھے تھے، جبکہ وہ اللہ کو اپنے قریب سمجھتی تھی۔ والد جب کبھی بیٹی کو یاد کرتے ہیں تو آنکھوں میں آنسوں اور لبوں پر ایک ہی نام ہوتا ہے "نور"۔
جیسے جیسے نور بڑی ہوتی جا رہی تھی، اپنی بہن سے نور کی دوستی بھی گہری ہوتی جا رہی تھی۔ بہنیں تو عام طور پر ایک دوسرے پر جان ہی چھڑکتی ہیں۔ نور کی بہن بھی اس پر جان دیتی تھی۔ سارہ مقدم کہتی ہیں کہ وہ اور میں ایک جان تھے، نور میری زندگی کا لازمی حصہ تھی۔ رواں سال عید کے موقع پر بھی سارہ نے ایک ایسا ہی پوسٹ شئیر کیا تھا جس میں انہوں نے بہن کے ساتھ گزاری گزشتہ عیدوں کا تذکرہ کیا تھا۔
والدین اور بہن نور کی ایک بات کو اب تک نہیں بھول پا رہے ہیں، وہ ہے نور کا ہر کسی کے لیے محبت بھرا انداز۔ نور نے اپنے محبت بھرے انداز سے والدین اور بہن کو ایسا پیغام دیا جو آج نور کے بعد گھر والے یاد رکھے ہوئے ہیں۔ والدین بتاتے ہیں کہ نور ایک نرم دل اور محبت کرنے والی لڑکی تھی۔
نور کے دوست احباب اور رشتہ دار بتاتے ہیں کہ نور ایک ایسی شخصیت کی مالک تھی کہ جب ملتی تو چہرے سے مسکراہٹ ہٹتی نہیں تھی۔ ہر کسی سے اچھے سلوک سے پیش آتی اور ہر کسی کا دل جیت لیتی تھی۔
یہ بات بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ نور سماجی کاموں میں بھی پیش پیش تھی۔ نرسری کے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ہو یا پھر سماجی مسائل اجاگر کرنا، نور نے کسی کام سے جی نہیں چرایا۔
نور ظاہر جعفر کو بھی آخری وقت تک سمجھاتی رہی یہاں تک کہ اس درندے نے نور کو دوسرے جہاں پہنچا دیا۔ مگر نور نے ہمت نہ ہاری اور اپنی پوری کوشش کی کہ ظاہر جعفر کو اس بات کا احساس دلا سکے کہ وہ ایک ایسی ضد میں متبلا ہے جو اسے خود کو بھی تباہ کر دے گی۔
آج نور دوسرے جہاں میں ہے مگر پھر بھی اس جہاں میں زبان زد عام ہے، دوسری جانب ظاہر جعفر ہے جو اپنے بوئے ہوئے بیچ کی سزا کاٹے گا۔