آج کل گھروں میں میت کو غسل دینے کا رواج کیوں ختم ہوتا جارہا ہے؟

image

پہلے اگر کسی گھر میں فوتگی ہوتی تھی تو خاتون کی میت پر خاندان اور محلے کی عورتیں جبکہ آدمی کے انتقال پر قریبی عزیز اور رشتے دار جمع ہوکر غسل کا انتظام کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے مرنے والے کو نہلاتے تھے۔

اسلام میں بھی میت کو قریبی افراد کے ہاتھوں غسل دینے کی ترغیب دی گئی ہے لیکن آج کل یہ رواج معدوم پڑتا جارہا ہے خاص طور پر شہروں میں میت کو گھروں کے بجائے ایدھی یا دوسرے سماجی اداروں میں نہلوایا جاتا ہے۔

آج ہم بات کریں گے کہ گھروں میں میت نہلانے کا رواج کیوں ختم ہورہا ہے اس کے علاوہ یہ بھی جانیں گے کہ شہر کراچی میں ایسے کون سے سرکاری سرد خانے ہیں جہاں میت کو ایک دو دن کا انتظام موجود ہے۔

اسلامی نقطہ نظر

میت کو کون لوگ غسل دے سکتے ہیں اس سوال کا جواب دارلافتاع دیوبند میں اس طرح دیا گیا ہے کہ “اگر وہ قریبی رشتہ دار غسل دینا میت کو سنت کے مطابق جانتے ہیں تو ان ہی کو غسل دینا بہتر ہے، اوراگر وہ نہیں جانتے ہیں تو دوسروں سے غسل دلوانے کی اجازت ہے“ (فتوی: 1679-1321/B=10/1433 )

اس فتوے سے پتا چلتا ہے کہ اگرچہ قریبی عزیزوں کا میت کو غسل دینا بہتر ہے لیکن ان کو غسل دینے کا شرعی طریقہ معلوم ہونا بھی ضروری ہے اور اگر وہ اس سے لاعلم ہیں تو بہتر ہے کہ ایسے انسان کی مدد لی جائیں جسے میت کو سنت کے مطابق غسل دینے کا علم ہو۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ شہروں میں اب میت کو غسل دینے کا رواج کم ہوگیا ہے کیونکہ لوگ اس حوالے سے زیادہ معلومات نہیں رکھتے۔

شہر میں تین میں سے صرف ایک سرد خانہ فعال ہے

سماء نیوز میں شائع ہوئی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے اور زیادہ آبادی والے شہر کراچی میں سرکاری سطح پر کوئی سرد خانہ موجود نہیں ہے جو کہ افسوسناک صورتحال ہے۔ شہر میں آئے روز حادثات اور ایسے واقعات پیش آتے ہیں جس میں انسانی جانیں چلی جاتی ہیں اور فوری طور پر ورثاء موجود نہیں ہوتے جس کی وجہ سے سرد خانوں کی ضرورت ہوتی ہے اس کے علاوہ بھی کسی کے گھر میں فوتگی ہوجائے تو لوگ اکثر میت کو سرد خانوں میں رکھوانا چاہتے ہیں جس کے لئے انھیں پرائیویٹ اداروں یا پھر ایدھی کی خدمات حاصل کرنی پڑتی ہیں۔

کراچی میں موجود تین سرکاری سردخانوں میں اس وقت صرف جناح اسپتال کا سرکاری سرد خانہ فعال ہے جس میں ایک وقت میں 12 میتیں رکھی جاسکتی ہیں جبکہ سول اور عباسی شہید اسپتال میں سرد خانہ موجود ہونے کے باوجود تکنیکی مسائل کی وجہ سے غیر فعال ہیں۔ حکومت کو شہر کی اس اہم ضرورت پر دھیان دینے کی ضرورت ہے تاکہ شہری ایمرجنسی کی صورت میں مشکلات سے بچ سکیں


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US