سوشل میڈیا پر منگھوپیر کے مزار اور ان کے مگرمچھوں کے بارے میں بہت سنا ہوگا۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
کراچی کے علاقے منگھوپیر کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ منگھوپیر کے مگر مچھ ہوں یا پھر گرم پانی کا چشمہ اور پھر مزار سب ہی اپنی انفرادیت کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔
اس علاقے کی خاص بات یہ ہے کہ جب یہاں کچھ نہیں تھا تو یہاں صوفی بزرگ پیر منگھو آ کر آباد ہوئے تھے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق صوفی بزرف پیر منگھو یہاں 13 ویں صدی میں عراق سے اس وقت یہاں ہجرت کر کے آئے تھے جب عراق پر منگولوں نے حملہ کر دیا تھا۔
پیر منگھو جنوبی پنجاب سے ہوتے ہوئے سندھ میں داخل ہوئے اور پھر اس مقام پر آباد ہوئے جہاں آج ان کا مزار موجود ہے۔ پیر منگھو دراصل شیدی قوم کی نسل میں سے تھے، شیدی دراصل ان افریقیوں کو کہا جاتا ہے جو کہ غلام کے طور پر ہندوستان لائے گئے تھے۔
جس وقت صوفی بزرگ یہاں آئے تھے، اس وقت اس جگہ پر کھجور کے بڑے بڑے درخت ہوا کرتے تھے، ان کا قیام ایک پہاڑ پر تھا۔ چونکہ پاس ہی مچھیروں کا ایک گاؤں بھی موجود تھا، جس نے بہت جلد ہی صوفی بزرگ کی توجہ حاصل کر لی۔ جب پیر منگھو کا انتقال ہوا تو ان کے چاہنے والوں نے ان کا ایک چھوٹا سا مزار بھی تعمیر کیا تھا۔
پیر منگھو جہاں رہائش اختیار کیے ہوئے تھے وہاں مگرمچھ بھی تھے اور کہا جاتا ہے کہ صوفی بزرگ ان مگر مچھوں سے اپنا کھانا بھی شئیر کیا کرتے تھے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ مگر مچھ دراصل بزرگ کی جوئیں تھیں، جنہیں صوفی بزرگ نے اپنی کرامت سے مگر مچھ بنا دیا تھا۔ لیکن اس حوالے سے محققین نے کچھ کہا نہیں ہے۔
اس وقت سے لے کر آج تک یہ مگر مچھ اسی مقام پر آباد ہیں۔ اس مزار کے حوالے بات بھی منفرد ہے کہ مزار اور اس کے مگر مچھوں کے حوالے سے قدیم کتب میں ذکر موجود ہے۔ محققین کے مطابق یہاں کے مگرمچھ بھی ہزاروں سال پرانے ہیں اور یہی آباد ہیں۔
19 ویں صدی میں برطانوی شہری اور فوجی اپنی فیملیوں کے ساتھ یہاں آیا کرتے تھے اور مگر مچھوں کو کھانا دیا کرتے تھے۔ یہاں کے مگر مچھوں کے حوالے سے یہ بات بھی کافی منفرد ہے کہ یہاں کے مگر مچھوں کو پالتو کہا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر موجود تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ مگر مچھ اپنے کھانا ڈالنے والے کو قریب بھی آنے دے دیتے ہیں۔
سائنس دانوں کو کچھ ایسے ثبوت بھی ملے ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 330 سے 1200 قبل از مسیح یہاں مگر مچھوں کو پوجا جاتا تھا۔ سائنس دانوں کے مطابق یہاں کے مگر مچھوں کی نسل اب اسی خوراک پر منحصر ہو چکی ہے جو انہیں کھلائی جا رہی ہے، چونکہ یہاں آنے والے مٹھائی سے لے کر گوشت تک دیتے ہیں تو یہاں کے مگر مچھ س کچھ کھا رہے ہیں۔