سوشل میڈیا پر سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے جہاں مخالفین ایک دوسرے کے خلاف زبانی جنگ لڑ رہے ہیں وہیں صحافی بھی ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
نجی چینل اے آر وائی کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے اسپیشل ٹرانسمیشن کر رہا تھا جس میں سینیر اینکرز اور تجزیہ نگار مدعو تھے، جبکہ اس ٹرانسمیشن کو ماریہ میمن اور وسیم بادامی ہوسٹ کر رہے تھے۔
وسیم یکے بعد دیگرے اینکرز کے تجزیے اور جوابات لے رہے تھے لیکن جیسے ہی باری آئی ارشد شریف کی تو صحافی اپنے تجزیے میں ماضی اور تاریخ کا کچھ حوالہ دینے لگے، جس پر وسیم بادامی نے لقمہ دیتے ہوئے بات کاٹی۔
وسیم بادامی کا بات کاٹنا تھا اور ارشد غصہ ہو گئے۔ پہلے تو ارشد نے شکوہ کیا کہ آپ نے دیگر مہمانوں کی باتیں سنی اب میری بات بھی سنیں۔ جس پر وسیم نے کہا کسی بھی مہمان نے تمہید نہیں باندھی تھی، سب نے مقررہ وقت میں بات مکمل کی۔
لیکن ارشد شریف نے کہا کہ مجھے جواب دینے دیں، کوئی کام کی بات سننی نہیں ہے۔ جس پر وسیم بادامی نے کہا کہ باقی مہمانوں نے بھی کام کی بات کی ہے، آپ کے خیال میں آپ ہی عقل قل ہیں۔
ارشد شریف نے غصے میں آ کر کہا کہ اگر آپ نے میری بات نہیں سننی ہے تو میں یہ شو چھوڑ کر چلا جاتا ہوں، یہ کہتے ہی سینیر صحافی شو چھوڑ کر چلے گئے۔
صحافی کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہے۔