اکثر آپ میں سے بیشتر لوگوں نے پبلک ٹرانسپورٹ یا ٹرکوں کے پیچھے آدھی عورت اور آدھی سانپ کی تصاویر دیکھی ہوں گی، لیکن یہ تصاویر خیالی نہیں ہیں بلکہ ان تصاویر کو یونان میں خاص اہمیت حاصل ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
یونان میں انسان اور سانپ کے ملاپ والی اس عورت کو خاص مقام حاصل ہے۔ یونان میں اس خاتون کو ایشدنا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایشدنا کو صرف یاد ہی نہیں بلکہ عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
ایشدنا کو یونانی اپنا سرپرست، دیوی مانتے ہیں جبکہ کئی اسے روحوں کی ماں بھی پکارتے ہیں۔ دراصل ایشدنا یونان کے ان خداؤں میں سے ایک ہے جو کہ راکشس تو کہلاتی ہے مگر افسانوی دنیا میں۔
چونکہ اس دیوی کے بچے بھی اسی کی طرح منفرد تھے یعنی ڈریگن کی طرح اور ان بچوں کی تعداد بھی 100 تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دیوی کو راکشس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
ایک دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ بھی ہے اس دیوی نے اپنے بچے کو خود ہی مارا تھا۔ لیکن خود کے بچوں کو مارنے کے پیچھے بھی ایک خاص وجہ تھی، وہ یہ کہ ایک بچہ جو کہ ڈریگن کی طرح کا تھا، وہ سنہرے سیب چراتے ہوئے پکڑا گیا جسے اس نے قتل کیا۔
اسی طرح ایک اور بچہ جو کہ دو سر والا کتا تھا وہ بھی جانوروں کو چُرا رہا تھا، جسے ایشدنا نے خود قتل کر دیا۔
اس وقت بھی ایشدنا کا وہ مقام کافی مشہور ہے اور دنیا میں یونانیوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مقام فریگیا کے علاقے میں واقعہ ہے جہاں قدیم یونانی آ کر عبادت کیا کرتے تھے۔ جو کہ اب ترکی کے شہر انتالیا میں واقع ہے۔
آج بھی یونانیوں کا ماننا ہے کہ جب کبھی زلزلے آتے ہیں تو یہ دیوی ایشدنا کی وجہ سے آتے ہیں، کیونکہ دیوی اپنے سانپ جیسی لمبی دُم کو ہلاتی ہے جس کی وجہ سے زمین ہل جاتی ہے۔