Capela Dos ossos نامی کھوپڑیوں اور ڈھانچوں سے بنے چرچ کو سیاحوں کےلیے کھول دیا گیا ہے۔ پرتگال میں واقع اس چرچ کو انسانی ہڈیوں سے بنایا گیا ہے ۔اس میں 5 ہزار انسانوں کی ہڈیوں کا استعمال کیا گیا ہے ۔اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ 16 ویں صدی میں جب صلیبی جنگیں عروج پر تھیں تو اس وقت مذہبی راہبوں نے اس کو بنایا۔ یہ پرتگال کے شہر "ایوارا" میں ہے۔ یہ قصبہ قبرستانوں کا قصبہ تھا ۔تو اس وقت کے راہبوں نے یہ سوچا کہ کیوں نا یہاں چرچ بنا کر اس جگہ کو استعمال کیا جائے، چنانچہ اس جگہ کو نشان عبرت بنانے کے لئے اس جگہ ان قبرستانوں میں موجود لاشوں سے اس چرچ کو تعمیر کیا گیا۔ کچھ روایات میں اس کو پوپ "فرانسس کانی" نے مکمل طور پر اندلس میں مارے گئے مسلمانوں کی کھوپڑیوں اور انکی ہڈیوں سے تعمیر کیا ۔ اس کو بنانے کےلیے 5ہزار مسلمانوں کے ڈھانچوں کو استعمال کیاگیا جن کو سقوطِ اندلس کے بعد نصرانیت قبول نہ کرنے پرقتل کیاگیا تھا۔۔ جبکہ کچھ روایات میں ہے کہ اسے عام سپاہیوں کی لاشوں سے جو کہ جنگوں میں مارے گئے تھے ان کی ہڈیوں سے بنایا گیا ہے۔
ماں اور بچے کا ڈھانچہ
اس چرچ کی دیوار پر دو لاشیں بھی سکھا کر لٹکائی گئی ہیں جس کے بارے میں ایک یہ روایت ہے کہ یہ ایک ماں اور اس کے بچے کی لاش ہے ،جن سے جلن میں ایک شخص نے ان پر کالا جادو کر کے ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ یہ خطہ جادو ٹونے اور خاص کر کالا جادو کی کہانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ کچھ روایات کے مطابق یہ ایک باپ اور بیٹے کی لاش ہے ،جن پر کسی عورت نے کالا جادو کروا کر مار دیا تھا۔بہر حال یہ تو علیحدہ علیحدہ کہانیاں ہیں۔
اس کے دروازے پر ایک عبارت کندہ ہے کہ"ہماری ہڈیا ں یہاں ہیں اور تمہاری ہڈیوں کا انتظارکر رہی ہیں"
یورپ میں یہ واحد چرچ نہیں ہے جو ہڈیوں سے بنا ہوا ہے بلکہ اسی قصبے کے جنوب میں ایک اور چرچ بھی ہے جو کہ کہا جاتا ہے کہ راہبوں کی ہڈیوں سے بنایا گیا ہے ۔