بازار میں سموسے پکوڑے کی دکان پر آپ نے دیکھا ہی ہوگا کہ پرانے اخبارات میں کھانے پینے کی چیزیں لپیٹ کر دے دی جاتی ہیں۔ اگر اس پر اعتراض کرو تو دکان دار کہتے ہیں کہ کاغذ اضافی تیل کو جذب کرلیتا ہے اور پلاسٹک کی طرح نقصان دہ نہیں ہوتا۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ آج ہم جانیں گے کہ اخباروں میں لپیٹ کر دیا جانے والا کھانا ہماری صحت کے لئے کیسا ہے
استعال شدہ گندے کاغذ اور گتے
بھارتی تحقیقی ادارے کے مطابق پتلے گتے اور کھانا رکھ کر دینے والی کاغذ کی پلیٹیں استعمال شدہ کاغذات اور اخبارات کو ری سائیکل کرکے بنائی جاتی ہیں جو آلودہ اور جراثیم سے بھرپورے ہوتے ہیں جو نظام ہاضمہ کو خراب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
انک اور خطرناک کیمیکلز
ماہرین کے مطابق اخبارات اور پرنٹڈ اخبارات میں استعمال ہونے والی سیاہی اور مختلف کیمیکلز انسانی صحت کے لئے مضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ بوڑھے، بزرگ اور ایسے افراد جن کی قوت مدافعت بہت زیادہ اچھی نہ ہو وہ کینسر کے شکار بھی ہوسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بھارت میں اخبارات اور گتے کی پلیٹوں میں کھانا بیچنا قانونی طور پر منع ہے اور اس کے خلاف حکومت کارروائی کررہی ہے۔
ان کی جگہ کیا استعمال کریں؟
باہر کا کھانا اپنے آپ میں نقصان دہ ہوتا ہے جو پرانے اخبارات اور انک والے کاغذات سے مل کر مزید صحت کو نقصان پہنچاتا ہے اس لئے ان سے بچنے کے لئے کوشش کریں کہ گھر سے ہی کوئی برتن لے جائیں۔ اخبارات کے بجائے پلاسٹک کی تھیلیوں کواستعمال کرنے کے بجائے شیشے کی پلیٹیں، ڈبے اور پتوں کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔