پاکستانی کی بدلتی سیاسی صورتحال نے جہاں دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے وہیں خود پاکستانی بھی اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اس خط میں کیے جانے والے انکشافات سے متعلق بتائیں گے جو کہ مختلف ذرائع سے سامنے آ رہے ہیں۔
وفاقی وزیر فیصل واوڈا سمیت صحافیوں کی جانب سے خط کے حوالے سے مختلف انکشافات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی جانب سے کاشف عباسی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو کئی مرتبہ جلسوں میں بلٹ پروف شیشہ لگانے پر اصرار کیا مگر ان کا کہنا تھا کہ جب میری موت لکھی ہوگی، چلا جاؤں گا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق کاشف عباسی، ارشد شریف اور عمران ریاض خان ان صحافیوں میں شامل تھے جنہیں وزیر اعظم عمران خان نے مدعو کی تھا۔
سینیر صحافی ارشد شریف کا کہنا تھا کہ یہ بہت واضح لکھا تھا کہ اگر عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے، تو پاکستان کے لیے عالمی طور پر حائل مشکلات کم کی جا سکتی ہیں۔ لیکن اگر عمران خان عدم اعتماد میں کامیاب ہو گئے تو پاکستان کے لیے مزید مشکلات بڑھ جائیں گے۔
اسی طرح عمران ریاض خان بتاتے ہیں کہ اس خط میں پاکستانی آفیشلز اور ایک اور ملک کے بارے میں بتایا گیا ہے جو کہ عین ممکن ہے امریکہ ہو۔ خط میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کے روس دورے پر یورپ اور امریکہ ناراض ہے۔
کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ خط میں روس کا دورہ واضح طور پر موجود تھا اور اسے عمران خان کی بحیثیت ذاتی ترجیح تصور کیا جا رہا ہے۔ اگر عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو پاکستان کے لیے مشکلات کم ہو جائیں گی اور اگر کامیاب نہیں ہوئی تو مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔
صحافیوں کی جانب سے کہنا تھا کہ اس خط میں عدم اعتماد اور حکومت کی تبدیلی کا ذکر موجود تھا۔ اس حوالے سے کچھ ذرائع کا کہنا تھا کہ کچھ وزراء خط دیکھتے ہوئے اشکبار بھی تھے