اکثر افراد رمضان میں کام کی تھکاوٹ کی وجہ سے بغیر سحری کے روزہ رکھ لیتے ہیں جن سے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ درست نہیں۔
بہت سے لوگ یہ تاثر بھی ظاہر کرتے ہیں کہ انہوں نے بغیر سحری کے روزہ رکھا جن کا انہیں زیادہ ثواب ملے گا۔ آج ہم اسی حوالے سے جانیں گے کہ سحری کی کیا اہمیت ہے اور اس بارے میں علماء کرام کیا کہتے ہیں۔
ایک نجی ٹی وی کے پروگرام کی سحری ٹرانسمیشن میں ایک علماء نے اس حوالے سے بتایا کہ سحری کا شمار واجبات میں نہیں کیا گیا لیکن سحری کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اس کی بہت تاکید بھی آئی ہے۔ انہوں نے صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1923 (تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ "سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے"۔
علما نے کہا کہ سحری کی باقاعدہ تاکید کی گئی ہے کہ انسان سحری کو ترک نہ کرے۔
سحری کرنا عبادت اور ثواب کا ذریعہ بھی ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص سحری کے وقت بیدار نہیں ہوسکا یا با امرِ مجبوری سحری کا اہتمام نہیں کر سکا تو سحری کھائے بغیر بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔
سحری کھائے بغیر روزہ ٹھیک ہے، مگر سحری کی برکت اور اجر و ثواب سے محروم ہوجاتے ہیں۔ تو اس لیے جان بوجھ کر سحری ترک کرنا اہل کتاب کی مشابہت ہونے کے سبب جائز نہیں ہے۔