جب نبی ﷺ پر جادو ہوا تو اللہ تعالیٰ نے کون سی دو سورتیں نازل فرمائیں؟ جادو کی حقیقت اور اسلام

image

طبیعت ٹھیک نہیں ہو رہی، ڈاکٹری علاج کوئی فائدہ نہیں دے رہے، جسمانی ٹیسٹ رپورٹس بھی نارمل ہیں لیکن تکلیف ختم نہیں ہو رہی۔ ایسے میں اکثر لوگوں کے دلوں میں یہی خیال آتا ہے کہ کہیں کسی کی نظر تو نہیں لگ گئی یا کسی نے ان پر جادو تو نہیں کروا دیا۔ آج کل کے معاشرے میں یہ بات بہت عام ہوگئی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہر کسی کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوتا لیکن چونکہ ہمارے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ جادو ہوتا ہے تو ہم نے اس کو تسلیم کرلیا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ بھی انسان کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں تاکہ اس کے ظرف کو دیکھ سکیں کہ اس کا بندہ کتنا اپنے خُدا سے رجوع کرتا ہے۔

ایمان جس بات پر کامل یقین کرلے ہم اس بات کو پکا اور سچا تسلیم کرلیتے ہیں جبکہ ایسے معاملات میں ہمیں ہمیشہ اپنے دین سے مدد لینی چاہیئے۔ اکثر لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جب نبی ﷺ پر جادو ہو سکتا ہے تو ان کی امت پر کیوں نہیں؟ یہ حقیقت ہے کہ نبی ﷺ پر جادو کیا گیا تھا لیکن اس کا توڑ بھی اللہ نے انہیں قرآنی آیات سے بتایا اور اللہ نے نبی ﷺ کو شفاء بھی عطا فرمائی۔

ہم لوگ اس قدر گمراہی کے راستوں پر چل پڑے ہیں کہ جعلی پیر فقیروں کے آستانے ڈھونڈنے بیٹھ جاتے ہیں اور اپنا قیمتی وقت اور پیسہ برباد کر دیتے ہیں۔ ایسے معاملات میں کسی مبلغ عالمِ دین سے ہی مدد لینی چاہیے جو آپ کو اللہ کے بتائے گئے طریقے اور شریعتِ نبی ﷺ سے حل بتائے تاکہ آپ کی زندگی بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔

جادو کیا ہے؟

جادو کا لفظ فارسی زبان سے مآخذ ہے۔ عربی میں اس کو سحر کہا جاتا ہے۔ مختلف علماؤں کی نظر میں جادو ایک ایسا کام ہے جو انسان خود نہ کرسکے اور شیطانی وسائل سے مدد لے۔ دراصل جادو کوئی اس وقت کرنے کا سوچتا ہے جب وہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں اور رحمتوں پر شکر گزاری نہیں کرتا اور دوسروں سے حسد میں لگ جاتا ہے۔ یہ حسد اور جلن ہی شیطانی راستوں پر چلنے کے لیے گامزن کرتی ہے۔

نبی ﷺ پر جادو کس نے کروایا؟

نبی ﷺ پر بنو زریق کے لبید بن الاعصم نامی ایک یہودی نے جادو کروایا۔ جس کے بعد نبیﷺ کو یہ خیال ہوتا تھا کہ وہ کوئی کام کر رہے ہیں جبکہ وہ کام حقیقت میں نہ کیا ہوتا تھا۔ جب آپ ﷺ نے اس کے اثرات کو اپنے اوپر محسوس کیا تو آپ نے بار بار دعا کی۔

صحیح بُخآری کی روایت کے مطابق:

جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس جن کو معوّذتین کہتے ہیں، وحی کی گئیں۔ اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ سے کہا: یقیناً ایک یہودی نے آپ ﷺ پر جادو کیا ہے اور اس کا طلسم بئر ذروان کنویں میں رکھا ہوا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بھیجا کہ وہاں سے طلسم لے آئیں ۔ جب وہ اسے لے کر واپس آئے تو آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ اس کی گرہوں کو کھولیں اور ہر گرہ کے ساتھ ان سورتوں (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) میں سے ایک ایک آیت پڑھیں۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو آپ ﷺ یوں اٹھ کھڑے ہوئے جیسے وہ پہلے بندھے ہوئے تھے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ سے روایت ہے:

یہاں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ وہ بتاتی ہیں جب آپ ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ باہر گئے اور واپس لوٹے تو انہوں نے فرمایا: '' اے عائشہ! کیا تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتا دی ہے، جو میں اس سے پوچھ رہا تھا؟ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سر کے پاس اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا، ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا، اس آدمی کو کیا تکلیف ہے؟ کہا اس پر جادو کیا گیا ہے، کہا کس نے کیا ہے ؟ اس نے کہا لبید بن اعصم نے، اس نے کہا، کس چیز میں؟ کہا کنگھی، بالوں اور نَر کھجور کے شگوفے میں، اس نے کہا وہ کہاں ہے؟ کہا طلسم کنویں بئر ذروان میں۔ اور فرمایا، اے عائشہ ! اس کنویں کا پانی گویا کہ مہندی ملا ہوا تھا اور اس کی کھجوریں گویا شیطانوں کے سر تھے ۔ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے عافیت و شفاء دے دی ہے۔ ''

بحوالہ: (صحیح بخاری: ۸۵۸/۲، ح: ۵۷۶۶، صحیح مسلم : ۲۲۱/۲، ح: ۲۱۸۹)

سعید بن مسیب ؓ نے فرمایا کہ:

'' جادو کا توڑ کرنے والوں کی نیت تو اچھی ہوتی ہے اور اللہ پاک نے اس بات سے منع نہیں فرمایا جس سے فائدہ ہو۔(صحیح بخاری) '' اس بات سے یہ صاف واضح ہوتا ہے کہ جادو کا توڑ کروانے کے لیے کسی کا بھی انتخاب کرنا غلط ہے، بلکہ صرف انہی کا انتخاب کیا جائے جو اللہ کے دین کو سمجھتے ہیں اور اس پر کامل یقین بھی کرتے ہیں اور ان کے اعمال سے بھی دین کی پیروی ظاہر ہوتی ہے۔

قرآن

قرآن ایک جامع کتاب ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی کے تمام تر مسائل کا حل بتا دیا ہے۔ آج کے دور میں جہاں لوگ گمراہی کا شکار ہیں، ہمیں چاہیئے کہ ہم قرآن کی تلاوت روزانہ کریں اور نماز کی پابندی کو خود پر لازم کرلیں تاکہ شیطانی باتوں سے بچ سکیں۔ اللہ اس شخص سے راضی ہوتا ہے جو اس کے کلام اور اس کے ذکر کو ہر وقت کرتا ہے۔ ایک دوسرے کی اصلاح کریں، ہمارا دین سب سے آسان ہے۔ قرآن میں اللہ کہتے ہیں، ہم نے قرآن کو تمہارے سمجھنے کے لیے آسان کروایا، بس ہے کوئی جو اسے سمجھے۔

سورۃ البقرہ

عن أبي هريرة أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال لا تجعلوا بيوتکم مقابر إن الشيطان ينفر من البيت الذي تقرأ فيه سورة البقرة۔

ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس گھر میں سورۃ البقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US