تم کرائے پر آئے ہو؟ ۔۔ فواد چوہدری اور صحافی کے درمیان لڑائی، ہاتھا پائی سے کس نے بچایا؟ دیکھیے ویڈیو

image

پاکستان میں بڑھتی سیاسی گرما گرمی نے جہاں میڈیا کی توجہ حاصل کی ہے وہیں صحافی اور سیاست دان بھی اس صورتحال میں سب کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے بعد جب اسد عمر اور فواد چوہدری پریس کانفرنس کے لیے میڈیا کی جانب بڑھے تو صحافی پہلے ہی پی ٹی آئی رہنماؤں کا انتظار کر رہے تھے۔

میڈیا سے بات چیت میں پہل اسد عمر کی جانب سے کی گئی، اسد عمر نے نہ صرف پی ڈی ایم کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ اپوزیشن کے الزمات کو بھی رد کیا ساتھ ہی اس بات کو بھی واضح کیا کہ نیشنل سیکورٹی کونسل کی میٹنگ میں اپوزیشن رہنماؤں کو مدعو کیا گیا تھا۔

لیکن جیسے ہی اسد عمر کے بعد فواد چوہدری کی باری آئی تو صحافی مطیع اللہ جان نے فورا سوال کرنا شروع کر دیا، صحافی سے اتنا صبر بھی نہیں ہوا کہ پہلے رہنما پریس کانفرنس کرلیں اس کے بعد سوال جواب کیے جائیں۔

اور اگر سوال کر بھی دیا تو اگر جواب نہیں مل رہا تو صحافی چپ ہو جائے، لیکن یہاں صحافی بضد تھا کہ اسے جواب چاہیے، جواب کی خاطر صحافی نے اپنی آواز بھی اونچی کر لی، صحافی نے سوال کرتے ہوئے فرح خان اور آرمی چیف سے متعلق پوچھا جس پر فواد چوہدری نے پہلے تو کہا کہ رک جائیں پہلے بات کرنے دیں پھر سوالات لیتے ہیں۔

لیکن جب صحافی نہ رکا تو فواد چوہدری نے صحافی کو یوٹیوبر کہہ کر چپ رہنے کو کہا جس پر صحافی طیش میں آگیا یوں صحافی اور فواد چوہدری کے دمریان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

بحث اس حد تک گرم ہو گئی کہ صحافی برادری نے فواد چوہدری سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا، مطیع اللہ جان نے جب فواد چوہدری سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تو فواد چوہدری نے کہا کہ تمہاری شکل ہے میں تم سے معافی مانگوں گا۔

صحافیوں کی جانب سے پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا گیا، لیکن فواد چوہدری پھر بھی بات چیت کرتے رہے۔ اس پوری صورتحال میں صحافی مطیع اللہ جان کو روکتے رہے جبکہ بیچ بچاؤ کرانے شہباز گل بھی آئے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US