میں اپنے بیٹے جنید کو اللہ کی طرف راغب کرنے کے لئے گھر میں ہی چھوٹی سی مسجد بنانا چاہتی ہوں۔ جنید ابھی صرف دو سال کا ہے لیکن بچے ہمیشہ بڑوں اور اپنے ماں باپ کو دیکھ کر ہی سیکھتے ہیں اس لئے اپنے بیٹے کے لئے میں یہ چھوٹی سی کوشش کرنا چاہتی ہوں“
یہ الفاظ ہیں ماہ نور بابر کے جو مشہور نعت خواں جنید جمشید کے منجھلے بیٹے بابر جنید کی اہلیہ ہیں۔ بابر اور ماہ نور نے اپنے بیٹے کا نام اپنے مرحوم والد اور سسر کے نام پر جنید ہی رکھا ہے۔ ماہ نور بابر اپنے یوٹیوب چینل پر کافی دلچسپ اور معلوماتی وی لاگز بناتی ہیں۔ اس بار رمضان کے حوالے سے انھوں نے ایسا وی لاگ بنایا جس میں وہ اپنے بیٹے کے لئے گھر میں ہی پیاری سی مسجد بنارہی ہیں جس کا مقصد بچے کے دل میں نماز کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اس سے لگاؤ پیدا کرنا ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں ماہ نور نے کیسے یہ مسجد بنائی؟
مسجد بنانے کے لئے اسٹیشنری کا سامان
وی لاگ شروع ہوتے ہی دیکھا جاسکتا ہے کہ ماہ نور ایک اسٹیشنری اسٹور میں موجود ہیں جہاں وہ مختلف پینسلز اور مارکرز، ٹیپ وغیرہ خرید رہی ہیں۔ انھوں نے پینٹ برشسز بھی خریدے اور ایک اضافی برش اپنے بیٹے کے لئے خریدا کیونکہ پینٹنگ کا بچوں کو بہت شوق ہوتا ہے اور اپنے ماں باپ کو پینٹنگ کرتے دیکھ کر وہ بھی اس کام میں ہاتھ بٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پینسل سے کارڈبورڈ پر اسکیچنگ
ماہ نور گھر آکر پہلے سے رکھے گئے کارڈ بورڈ پر پینسل سے چھوٹے بڑے گنبد بناتی ہیں اور اس کے بعد دروازے اور کھڑکیاں بنا کر ان پر رنگین اسٹیکرز اور کاغذات چپکاتی ہیں اور کارڈ بورڈز کو کٹر کی مدد سے کاٹتی ہیں جو ایک محنت طلب کام ہے۔
ہرے اور سفید رنگ کی خوبصورت مسجد
وی لاگ کے آخر میں ماہ نور کہتی ہیں کہ کارڈ بورڈز کاٹتے ہوئے ان کے ہاتھوں میں درد ہوچکا ہے اور بھوک بھی کافی لگ رہی ہے اور پھر وہ اپنی بنائی ہوئی مسجد دکھاتی ہیں جو انھوں نے اپنے کمرے کے ایک کونے میں بنائی ہے۔ مسجد کا گنبد والا حصہ دیوار پر چسپاں کیا گیا ہے اور اس کے سامنے جائے نماز رکھے ہیں۔ مسجد سفید اور ہرے رنگوں سے مزین کافی خوبصورت لگ رہی ہے۔ کیوں ہے نا یہ بچوں کے دل میں نماز کی محبت پیدا کرنے کا ایک خوبصورت طریقہ؟